پاکستان پر امریکی الزامات
امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے پاکستان پر الزام لگائے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی کی حمایت کرررہا ہے
امریکہ کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے پاکستان پر الزام لگائے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی کی حمایت کرررہا ہے اور ہندوستان کے خلاف حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔امریکی وزیر دفاع نے پاکستان سے کہا ہے کہ ان دہشتگردوں کی حمایت بند کردے جو افغانستان میں ہندوستانی، افغان اور امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ حمایت بند کرنے کےلئے ایک تاریخی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے یہ بیانات ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ وائٹ ہاوس میں ڈیموکریٹس کی حکمرانی ختم ہی ہونے والی ہے اور آئندہ جنوری سے ڈونالڈ ٹرمپ نئے صدر کی حیثیت سے اور ان کی ٹیم وائٹ ہاوس میں براجمان ہونے والی ہے۔علاقے میں دہشتگردی کو لے کر پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کیا جانا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں واشنگٹن کا ایک اصول بن چکا ہے جس کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر رہا ہے۔ امریکہ کی نظر میں دہشتگردی کے مقابلے میں پاکستان کی مبہم اور دوہری پالیسیاں خود پاکستان میں وسیع پیمانے پر بدامنی کا سبب بننے کے علاوہ علاقے میں امریکہ اور ا سکے اتحادیوں منجملہ ہندوستان کے مفادات کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔ دہشتگردی کے مقابلے میں پاکستان کی پالیسیوں کو ہندوستان اور افغانستان کے حکام نے بھی بارہا ہدف تنقید بنایا ہے واشنگٹن کی طرف سے پاکستان کے لئے مالی اور فوجی امداد میں کمی کا سبب بنی ہیں۔ گذشتہ جون میں پاکستان کو ایف سولہ جنگی طیاروں کی فروخت پر امریکہ کی مخالفت جملہ تنبیہی اقدامات میں سے ہیں جو واشنگٹن نے اسلام آباد کے خلاف اپنائے ہیں۔ یاد رہے واشنگٹن کو علاقے میں انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسیوں پر اعتراض ہے۔ امریکہ نے ایسے عالم میں پاکستان پر دہشتگردی کی حمایت اور علاقے میں دہشتگردی پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ ادھر علاقےاور دنیا کے بہت سے تحقیقاتی اور میڈیاحلقوں نے کہا ہے کہ امریکہ نے دہشتگردی کے تعلق سے دوہری پالیسیاں اپنا رکھی ہیں اور اس سے ہتھکنڈے کے طور پر استفادہ کرتا ہے۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ان پالیسیوں سے انتہا پسند گروہوں نے جنم لیا ہے جنہیں ہم عراق و افغانستان میں دیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ نے عراق کی قانونی حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے اور دہشتگردی کے بہانے عراق میں جنگ اوربدامنی کا سبب بنا ہے۔ شام میں بھی امریکہ اپنے بعض مغربی اور عرب اتحادیوں کے ہمراہ شام کے عوام کی جھوٹی حمایت کے تحت شام کی قانونی حکومت کو سرنگوں کرنے کی کوشش کررہا ہے اور دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے۔ اسی خطرناک سازش کے تحت دوہزار گیارہ سے شام کے حالات نہایت بحرانی ہیں اور عوام سخت مسائل کا شکار ہیں۔ ان حقائق کے پیش نظر امریکی حکومت کو پاکستانی حکومت کو دہشتگردی کو فروغ دینے کا ذمہ دار ٹہرانے سے پہلے اور اس پر ہندوستان پر حملہ کرنے والے انتہا پسندوں کی حمایت کرنے کا الزام لگانے سے قبل یہ دیکھنا چاہیے آخر وہ کن بنیادوں پر شام و عراق میں داعش سمیت مختلف دہشتگرد گروہوں کی مدد کررہا ہے؟ البتہ یہ یاد رہے کہ ان گروہوں کا اثر ورسوخ پاکستان، ہندوستان اور افغانستان تک بھی پہنچ چکا ہے اور امریکہ کو اس بارے میں رائے عامہ کو جواب دینا ہوگا۔امریکی وزیر دفاع نے ایسے عالم میں پاکستان پر دہشتگردی کا ا لزام دوہرایا ہے کہ پاکستانی حکام کو یہ امید ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات قائم کریں گے جن میں پاکستان کو دی جانے والی مالی اور فوجی امداد پر نظر ثانی کی جا ئے گی اور امریکہ کی علاقائی پالیسیوں میں ایک بار پھر اس کی پوزیشن بحال ہوجائے گی۔