سعودی جارحیت اور یمن
سعودی جارحیت اور سعودی طیاروں کی بمباری میں ہر روز درجنوں افراد جاں بحق
ایک ایسے عالم میں جب یمن میں وبا پھیلنے سے بیسوں افراد مرچکے ہیں سعودی جارحیت اور سعودی طیاروں کی بمباری میں ہر روز درجنوں افراد جاں بحق ہور ہے ہیں۔
یمن کی وزارت صحت کے اعلان کے مطابق یمن کے پندرہ صوبوں میں متعددی مرض پھیل گیا ہے جس میں اب تک اناسی سے زیادہ افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں دوسری طرف سعودی جنگی طیاروں نے گذشتہ روز صنعا کے علاقوں سنحان اور بنی بہلول کے علاقوں پر بمباری کی ہے ۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے اسی طرح شمالی صنعا کے مختلف علاقوں کو ستائیس مرتبہ اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے ان حملوں میں کئی عام شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں ۔ یمن پر سعودی جارحیت کو شروع ہوئے اکیس ماہ ہونے کو ہیں ، اس جارحیت اور حملوں کے نتیجے میں جہاں کئی یمنی شہری براہ راست ہوائی حملوں کا شکار ہوئے ہیں وہاں انفراسٹرکچر کی تباہی کی وجہ سے ملک میں بیماریوں اور عوام کی صحت عامہ کو بھی سخت نقصان پہنـچا ہے اور آئے دن متعددی بیماریوں اور مختلف وباؤں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ سعودی جارحیت کے نتیجے میں یمن کا اسی فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے جب کہ کئی اسپتال اور ڈسپنسریاں بھی تباہ و برباد ہوچکی ہیں۔
صحت کی عالمی تنظیم نے بھی یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اگست سنہ دو ہزار سولہ میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ یمن میں صرف پینتالیس فیصد صحت عامہ کے ادارے کام کررہے ہیں صرف سینتیس اسپتال باقی بچے ہیں جہاں پر مریضوں کا کسی حد تک علاج ممکن ہے ، اعداد و شمار کے مطابق پینتیس سو سات اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں صرف انیس سو کسی حد تک خدمات انجام دے رہے ہیں ، مثال کے طور پر تعز صوبے کے ستر فیصد صحت عامہ کے ادارے بے کار پڑے ہیں اور ان میں صحت عامہ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ، دوسری طرف پانی ، غذا اور ادویات اور ضروری میڈیسین کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے آئے روز وبائیں پھوٹ رہی ہیں۔
صحت عامہ کی یہ صورتحال کئی بیماریوں اور زخمیوں کی موت کا باعث بن رہی ہے۔
اسی تناظر میں یمن کی وزارت صحت میں متعدی بیماریوں اور وباؤں کی روک تھام میں مشغول شعبے کے سربراہ عبد الحکیم الکحلانی نےاپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حال ہی میں یمن کے گیارہ شہری وبائی امراض اور 78 افراد دیگر بیماریوں سے ہلاک ہوئے ہیں جب کہ پندرہ صوبوں کے سینکڑوں افراد وبائی بیماریوں کا شکار ہیں۔
صحت عامہ کی تنظیم بھی خبردار کرچکی ہے کہ اگر مناسب انتظامات نہ کئے گئے تو یمن کی آدھی آبادی وبائی امراض میں مبتلا ہوجائے گی۔ صحت عامہ کی بدترین صورتحال میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن کے عام شہریوں کو مسلسل ہوائی حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اب تک دس ہزار سے زائد افراد ان حملوں کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں ۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ مغربی ممالک حلب میں شامی فوج کے محاصرے میں آئے دہشتگردوں کی نجات دلانے کے لئے جنگ بندی کا واویلا اور ہر طرح کے اقدامات انجام دے رہے ہیں لیکن یمن کے غریب اور مظلوم عام شہریوں کو سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ہوائی حملوں سے بچانے کے لئے جنگ بندی تو کیا معمولی سی آواز اٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں ہے ۔