ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کا ایک سال اور امریکہ کی وعدہ خلافیاں
ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی معاہدے کو ایک سال کا عرصہ گزر رہا ہے اس عرصے کے دوران امریکہ اور بعض ممالک نے اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں نہ صرف لیت و لعل سے کام لیا بلکہ اس سلسلے میں وعدہ خلافیاں بھی کی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ اور ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی کمیٹی کے ایرانی سربراہ سید عباس عراقچی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ اور یورپ والوں نے گذشتہ ایک سال کے دوران ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے راستے میں روڑے اٹکانے کی ہرممکن کوشش کی لیکن ایران نے اس صورت حال کا مقابلہ کیا اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔
ایٹمی معاہدے میں دو انتہائی اہم موضوع شامل ہیں۔ پہلا، ایک جائز اور قانونی حق کے طور پر ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کیا جانا ہے۔ اور دوسرا موضوع ایٹمی سرگرمیوں میں ایران پر عائد الزامات اور پابندیوں کو ختم کرنے کے تناظر میں ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے آثار اور اثرات ہیں کہ جو ایٹمی مذاکرات کی طویل ترین بحثوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ فوجی ایٹمی سرگرمیوں پی ایم ڈی کے امکان کے بارے میں کیے جانے والے دعوے مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں۔
تکنیکی اور ایٹمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لحاظ سے بھی ایران کو اس وقت یورینیم کی افزودگی کا حق حاصل ہے لیکن ایک خاص عرصے تک اس کی شرح ساڑھے تین فیصد تک محدود ہے اور اس کے افزودہ ذخائر میں کم کر دیے گئے ہیں۔ اگرچہ گذشتہ چند برسوں کے دوران ایران کے ایٹمی پروگرام کے بہانے جو صف بندی کی گئی تھی، وہ اب ختم ہو گئی ہے اور اصلی پابندیوں کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن اب بھی ایسے مسائل موجود ہیں جنھوں نے ایٹمی معاہدوں پر اپنا سایہ ڈال رکھا ہے۔
امریکہ نے ایران کے ایٹمی تعلق سے ایران مخالف پابندیوں کو معطل کر دیا ہے لیکن دیگر پابندیوں کو میزائل پروگرام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے اور ایران پر دہشت گردی کی حمایت کے الزامات کے تحت جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکہ کی وزارت خزانہ ایران کے ساتھ بینکنگ کے شعبے میں تعاون کرنے والے بین الاقوامی بینکوں پر بدستور جرمانے عائد کر رہی ہے۔ دسمبر دو ہزار سولہ کے اوائل میں امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون آئی ایس اے کی مدت میں مزید دس سال کی توسیع کر دی ہے۔ ان پابندیوں کی مدت میں توسیع ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اقدامات ایٹمی معاہدے میں ایران کے حصے پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔ اس بات کی تائید میں سید عباس عراقچی نے کہا کہ ابھی تک بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں جن میں ایک بینکنگ کا شعبہ ہے جس میں موجود تمام مشکلات اور رکاوٹیں ابھی دور نہیں ہوئی ہیں۔ اس بنا پر ایران یہ مطالبہ ایک بین الاقوامی معاہدے کے تناظر میں کر رہا ہے کیونکہ امریکہ نے ایٹمی معاہدے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ ایٹمی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں شریک تمام فریق اس بات کے پابند ہیں کہ وہ مختلف شعبوں خاص طور تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ایران کے اقتصادی تعاون میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ ایٹمی معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے کہ جس میں کئی فریق ہیں۔ جس طرح ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے کے بارے میں دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا کیونکہ اس نے اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے۔
امریکی رویہ اور اس کا ایٹمی معاہدے کے بعد گذشتہ ایک سال کا طرزعمل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کی وجہ اسلامی جمہوری نظام کے ساتھ امریکہ کی مخالفت ہے اور جب تک ایران اپنے حق پسندانہ موقف اور اصول پر ڈٹا رہے گا یہ دشمنی بھی مختلف بہانوں سے جاری رہے گی۔