ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کو دھمکمیاں
پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے حملہ کیا تو اسے نہایت ہی شدید جواب دیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے جو سینیٹ سے خطاب کررہے تھے کہا کہ ہندوستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں پر کئےجانے والے ظلم و ستم سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں دہشتگرد قراردیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے حملہ کیا تو اسے نہایت ہی شدید جواب دیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے جو سینیٹ سے خطاب کررہے تھے کہا کہ ہندوستان اپنے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں پر کئےجانے والے ظلم و ستم سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے انہیں دہشتگرد قراردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستانی وزیر دفاع کا یہ تند و تیز بیان کہ ان کا ملک ہندوستان کے ممکنہ حملے کی صورت میں نہایت شدید جواب دے گا دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی پر دلالت کرتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کا ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا اور ان کی لفظی جنگ اس بات کا موجب بنی ہے کہ دونوں ممالک اختلافات کوحل کرنے کی تجویزوں کو نظرانداز کرتے جائیں۔ پاکستانی وزیر دفاع کا سخت بیان ہندوستانی فوج کے سربراہ کے اس متنازعہ بیان کے بعد میں آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان ایک ساتھ چین اور پاکستان سے لوہا لینے کو تیار ہے۔ہندوستانی فوج کے سربراہ کے غیر معمولی بیان کو اشتعال انگیز بیان قراردیا گیا جس سے علاقے میں کشیدگی اور ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے وزیر دفاع کا بیان کہ ان کاملک ہندوستان کے ممکنہ حملے کے جواب میں نہایت شدید رد عمل دکھائے گا ہندوستان کے ساتھ کمشیر کنٹرول لائین پر صبر و ضبط میں کمی آنے کا سبب بن سکتا ہے اور کسی بھی غیر معمولی اقدام کے نتیجے میں اس علاقے میں آگ و خون کا کھیل شروع ہوجائےگا اور اس سے یہ دونوں پڑ وسی ممالک شدید بحران کا شکار ہوجائیں گے۔ہندوستان اور پاکستان کے اعلی فوجی اور دفاعی حکام کی جانب سے ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا دونوں ملکوں کو ہتھیاروں کی دوڑ کی طرف لے جانے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے نفرت کے جذبات بھی ابھار دے گا جس سے دونوں ملک جنگ کے دہانے پر آسکتے ہیں۔ایسے عالم میں جبکہ ہندوستان اور پاکستان کو خطروں اور دہشتگردوں کے حملوں کا سامنا ہے، دونوں ملکوں کے حکام کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے صرف انتہا پسند محاذ کو فائدہ پہنچے گا اور نئی دہلی اور اسلام آباد کو سیکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔