لشکر جھنگوی کا سرغنہ ہلاک
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ادارہ انسداد دہشتگردی نے اعلان کیا ہے کہ دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کا سرغنہ آصف چھوٹو اور اس کے تین ساتھی شیخو پورہ میں ہلاک کردئے گئے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ادارہ انسداد دہشتگردی نے اعلان کیا ہے کہ دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کا سرغنہ آصف چھوٹو اور اس کے تین ساتھی شیخو پورا میں ہلاک کردئے گئے ہیں۔تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی کے یہ خطرناک عناصر شیخوپورہ میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے ۔ پاکستان کے سکیورٹی حکام کے مطابق انہیں رپورٹیں ملی تھیں کہ لشکر جھنگوی لاہور میں دہشتگردانہ کاروائیاں کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔
لشکر جھنگوی کے سابق سرغنے ملک اسحاق کے مارے جانے کے بعد یہ دوسری بار ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے اس تکفیری گروہ کے دوسرے سرغنے کو ہلاک کیا ہے۔ تکفیری دہشتگرد گروہ لشکر جھنگوی جو سپاہ صحابہ نامی دہشتگرد گروہ کی کوکھ سے پیدا ہوا ہے پا کستان میں پہلا دہشتگرد گروہ ہے جس نے داعش کی بیعت کی ہے۔کہا جاتا ہےکہ لشکر جھنگوی ان گروہوں میں سے ہے جو پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تحت کام کرتے ہیں۔ان گروہوں کی ذمہ داری شیعہ مسلمانوں کو شہید کرکے فرقہ واریت پھیلانا اور افغانستان میں کاروائیاں کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری اس گروہ کو حال ہی میں دی گئی ہے۔جب بھی پاکستانی حکومت پر دہشتگرد گروہوں کو گرفتار کرنے کا دباؤ بڑھتا ہے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگرد گروہوں کے سرغنوں کو گرفتار کرلیتے ہیں لیکن آج تک کبھی ان پر نہ تو کوئی مقدمہ چلایا گیا ہے اور نہ ہی انہیں کسی طرح کی سزا ہوئی ہے، کیونکہ حکومت پاکستان دہشتگردوں کے ساتھیوں اور حامیوں کے شدید رد عمل سے بہت زیادہ خائف ہے۔اسی وجہ سے پاکستان کی انٹلیجنس ایجنسیاں گرفتار شدہ دہشتگردوں کو رہا کردیتی ہیں اور انہیں ایک نمائشی انکاونٹر میں قتل کردیتی ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان کی انٹلیجنس ایجنسوں نے اعلان کیا ہے کہ لشکرجھنگوی کا سرغنہ آصف چھوٹو اگست کے مہینے سے جیل میں تھا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نائب حیدر نے اس دعوی کر بے بنیاد قراردیا ہے۔
آصف چھوٹو کو لشکر جھنگوی کے سابق سرغنے ملک اسحاق کی ہلاکت کے اٹھارہ مہینوں بعد ہلاک کیا گیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس گروہ نے انٹلیجنس کی طرف سے دی گئی ذمہ داریوں سے ہٹ کر بھی اقدامات انجام دئے ہیں جن سے داخلی اور علاقائی سطح پر پاکستان کی ساکھ خراب ہوئی ہے ۔حکومت پاکستان نے داخلی اور علاقائی حتی کہ عالمی دباؤ کی بنا پر دو مہینوں قبل دہشتگرد گروہ جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی کو دہشتگردی میں ملوث ہونے کی وجہ سے کالعدم قراردیے دیا تھا اور ان پر پابندی لگادی تھی۔
ادھر یہ گروہ بدستور دہشتگردانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں لیکن کیا لشکر جھنگوی کے دہشتگرد سرغنے کو مارنے سے حکومت پاکستان پر دباؤ کم ہوجائے گا تو اس سلسلے میں سیاسی مبصرین شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ یہ گروہ تیزی سے اپنا نیا لیڈر منتخب کرلیتے ہیں اور ملک کے اندر اور باہر اپنی کاروائیاں جاری رکھتے ہیں۔