پاراچنار دھماکے مذمت میں شیعیان پاکستان کے مظاہرے
پاکستان کے شیعہ مسلمانوں نے اتوار کے دن ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرکے پاراچنار میں دہشتگردانہ واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کو بھرپور طرح سے تحفظ عطا کیا جائے۔
پاکستان کی شیعہ پارٹیوں نے سانحہ پاراچنار پر تین دن عام سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ادھر پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت کے عہدیداروں نے پاراچنار کی سبزی منڈی میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستانی عوام بالخصوص شیعہ مسلمانوں کی نظر میں حکومت کی جانب سے صرف دہشتگردی کی مذمت پر ہی اکتفا کرنا کافی نہیں ہے- اس لئے اس ملک کی حکومت اور فوج کو چاہئے کہ وہ سنجیدہ طور پر دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرے - بالفاظ دیگر حکام کی جانب سے کسی بھی دھماکے یا دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنا، پاکستان میں ایک معمول میں تبدیل ہوگیا ہے کہ جس کے سبب دہشت گرد عناصر خود کو محفوظ سمجھنے لگے ہیں- لشکر جھنگوی کے توسط سے پاراچنار دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے پر پاکستان کے عوام خاص طورپر شیعوں کا غم وغصہ بھڑک اٹھا ہے کیوں کہ یہ فرقہ پرست دہشت گرد گروہ ، پاکستان میں مکمل طور پر جانا پہنچانا ہے اور پاکستان کی سیکورٹی یا خفیہ انٹیلی جنس کا اس سے مقابلہ کرنا کوئی دشوار کام نہیں ہے-
اس امر کے پیش نظر کہ حال ہی میں لشکر جھنگوی کا سرغنہ پاکستان کے سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا ہے ، اس دہشت گرد گروہ کے ذریعے انتقامی حملوں اور کاروائیوں میں تیزی آنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے- لیکن یہ مسئلہ غور طلب ہے کہ پاکستان کی فوج اور سیکورٹی فورسیز نے پاراچنار جیسے اہم اور حساس علاقوں میں کہ جہاں ہمیشہ دہشت گردانہ حملے ہوتے رہتے ہیں کیوں حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کیں- خاص طور پر ایسے میں جبکہ پارا چنار کے وہ علاقے جو شیعہ آبادی پر مشتمل ہیں اور ان علاقوں میں امن وسلامتی قائم کرنے کی ذمہ داری فوج کو سونپ دی گئی ہے، اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا پاراچنار کا دورہ اور وہاں دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کرنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ اس کے ملک کے عوام خاص طور پر شیعوں کے غیظ وغضب سے باخبر ہیں اور اسی لئے انہوں نے اس علاقے کا دورہ کیا تاکہ وہاں کے شیعوں کے غم وغصے کو کم کرسکیں- پارا چنار دھماکے کی مذمت میں شیعیان پاکستان کے مظاہروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کے عوام خاص طور پر شیعہ مسلمان خود کو محفوظ نہیں سمجھتے اور وہ، تحفظ فراہم کرنے میں فوج اور حکومت کی کارکردگی سے راضی نہیں ہیں-
یہ دھماکے اور دہشت گردانہ حملے ایسے گروہوں کی طرف سے کئے جا رہے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں وہ جانے پہنچانے ہیں اور بعض مذہبی پارٹیوں سے ان کے رابطے بھی ہیں- اور ان پر قابو پانا سیکورٹی اداروں خاص طور پر آئی ایس آئی کے لئے چنداں مشکل کام نہیں ہے- پاکستانی شیعوں نے واضح طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ تکفیری اور وہابی دہشت گردوں کو سنی معاشرے سے جدا قرار دیتے ہیں اور سنی عوام نے پاراچنار میں سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے میں بھی زخمیوں کی مدد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ اس دہشت گردانہ دھماکے اور ہر قسم کے فرقہ وارانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں- بنابر ایں پاکستانی عوام کو یہ توقع ہے کہ اس ملک کے سیاسی اور فوجی حکام دہشت گردانہ حملوں کی صرف مذمت کرنے کے بجائے، عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس مقابلہ کریں گے اور اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ دہشت گرد عناصر خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے آزادانہ طور پر اپنی دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دیتے رہیں- اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں عوام کے مارے جانے کے علاوہ پاکستان کے اقتصادی اور اجتماعی پروگراموں کے عملدرآمد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور یہ امر آئندہ انتخابات میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ( ن) کے نقصان میں ہے- اس کے علاوہ دہشت گرد اور فرقہ پرست گروہ ، کہ جو سعودی وہابیوں کی ایماء پر کام کر رہے ہیں، پاکستان میں داخلی اور فرقہ وارانہ جنگ چھیڑنے کے درپے ہیں اور اگر حکومت ان گروہوں کے خلاف ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی تو اس سے پاکستان میں قومی اتحاد کو خطرہ لاحق ہوجائے گا-