پاکستان کی جماعت الدعوۃ کے سربراہ نظربند
پاکستان کی جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید سمیت پانچ افراد کو چھ ماہ کے لیے نظر بند کردیا گیا جب کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو چھ ماہ تک زیر نظر بھی رکھا جائے گا۔
پاکستان کے صوبے پنجاب کے محکمہ داخلہ نے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو فورتھ شیڈیول میں شامل کرتے ہوئے چھ ماہ کے لیے گھر میں نظر بند کردیا- حافظ سعید کو جامعہ قادسیہ چوبرجی میں نظربند کیا گیا ہے جب کہ ان کی جماعت اور فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو بھی چھ ماہ تک زیر نظر رکھا جائے گا- محکمہ داخلہ پنجاب نے حافظ سعید سمیت پانچ افراد کو نظر بند کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا ہے جس کے مطابق جماعت الدعوۃ کے دیگر اراکین عبداللہ عبید، ظفراقبال، عبدالرحمان عابد اور قاضی کاشف نیاز کو شیڈول دو کے تحت نظر بند کیا گیا ہے جب کہ بند کیے گئے تمام افراد کی آمد و رفت پر بھی پابندی رہے گی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے نوٹیفیکیشن کےمطابق لاہور میں حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔ چار روز قبل جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو شیڈول دوکے تحت واچ لسٹ میں رکھا گیا تھا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں تنظیمیں امن اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کا ارتکاب کر رہی تھیں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب جیسی سرگرمیوں میں ملوث پائی گئی ہیں، نظر بند کیے گئے یہ پانچوں افراد ان دونوں تنظیموں کے فعال رکن ہیں۔
جماعت الدعوہ ، کہ جس کے سینئر حکام اسے ایک خیراتی ادارہ بتاتے ہیں، کی فوجی ونگ بھی ہے جسے لشکر طیبہ کے نام سے جانا جاتا ہے- جماعت الدعوہ سے وابستہ گروہ لشکر طیبہ پر نومبر دوہزار آٹھ میں بمبئی میں دہشت گردانہ حملوں کا الزام ہے- یہ دہشت گردانہ حملہ ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اختلافات کا باعث بنا ہے-اگرچہ بمبئی کے دہشت گردانہ حملے کا الزام لشکر طیبہ پر عائد کئے جانے اور اس حملے میں گرفتار کئے جانے والے اجمل قصاب کو 2012 میں پھانسی کی سزا دینے کے بعد اس کیس کو بند کردینا چاہئے تھا لیکن ہندوستان کی حکومت بدستور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافط سعید کو حوالے کئے جانے یا اس پرمقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کر رہی ہے-
اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا دیئے جانے کے ساتھ ہی یہ خیال کیا گیا کہ شاید ہندوستان کی حکومت کی نظر میں بمبئی دہشت گردانہ حملے کا کیس اب ختم ہوچکا ہے لیکن اس وقت سے اب تک ہندوستان کے بعض حکام نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کو بمبئی حملوں میں ملوث عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹے جانے سے مشروط کیا ہے- حافظ سعید بمبئی حملوں کے بعد، اور ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ بڑھائے جانے اور اس کے خلاف اور اس کے گروہ جماعت الدعوہ کے خلاف کچھ پابندیاں عائد کرنے کے حکومت پاکستان کے پروگرام کے بعد ، وہ کسی نامعلوم مقام پر زندگی گذار رہا تھا - لیکن گذشتہ ایک سال میں اس نے ایک بار پھر امور خیریہ کی آڑ میں ایک بار پھر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا-
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے چھ مہینوں تک حافظ سعید اور پانچ افراد کو نطر بند رکھنے کا فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ یہ قدم بیرونی دباؤ کے سبب اٹھایا گیا ہے- یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ہندوستان میں بی جے پی اور امریکہ میں انتہا پسند حکومت کے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی حکومت پاکستان کے لئے ناگزیر ہوگیا ہے کہ وہ جماعت الدعوہ گروہ کے ساتھ سختی سے نمٹے جانے کے نئی دہلی اور واشنگٹن کے مطالبے کی کسی حد تک تکمیل کے لئے ، حافظ سعید کو چھ ماہ تک نظر بند کردے- پاکستان نے اگرچہ گذشتہ برسوں میں غائبانہ طور پر حافظ سعید پر مقدمہ چلایا ہے لیکن پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ اس کے خلاف معتبر ثبوت و شواہد نہیں پائے جاتے- اسی سبب سے حکومت پاکستان نے ہندوستان اور امریکہ کے دباؤ میں آکر حافظ سعید کو نظر بند کردیا ہے تاکہ جماعت الدعوہ کے خلاف کاروائی کے مطالبے کے حوالے سے ان ملکوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرسکے-
بہرحال پاکستان کی مسلم لیگ ن کی جانب سے حافظ سعید کو نظر بند کئے جانے کے اقدام سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ پاکستان نے جماعت الدعوہ کے سربراہ کے تعلق سے اپنے پہلے والے موقف سے پسپائی اختیار کرلی ہے- خاص طور پر ایسے میں جبکہ امریکہ نے اس کی گرفتاری کے لئے دس ملین ڈالر کا انعام رکھا ہے کہ جس کا ہندوستان نے خیرمقدم کیا ہے- پاکستان کی حکومت کو یہ تشویش ہے کہ ٹرمپ کے دور صدارت میں ان کی انتہا پسندانہ خارجہ پالیسی کے پیش نظرکہیں اسلام آباد پر وائٹ ہاؤس مزید دباؤ مسلط نہ کردے- اس لئے حافظ سعید کی گھر میں نظربندی ممکن ہے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری پر منتج ہوجائے-