افغانستان پر پاکستان سے راکٹ حملے
افغانستان کے خبری ذرائع نے اعلان پاکستانی فوج نے ایک بار پھر مشرقی صوبے کنر پر راکٹ باری کی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوج نے صوبہ کنر کے شہر سرکانو پر پینتیس راکٹ برسائے ہیں۔
افغانستان کے خبری ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے ایک بار پھر مشرقی صوبے کنر پر راکٹ باری کی ہے۔ ان ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوج نے صوبہ کنر کے شہر سرکانو پر پینتیس راکٹ برسائے ہیں۔
سرکانو شہر کے باشندوں کا کہنا ہےکہ پاکستان کے راکٹ حملوں میں ایک دو منزلہ عمارت مکمل طرح سے تباہ ہوگئی ہے۔نئے سال کے آغازسے افغانستان پر پاکستانی فوج کا یہ دوسرا حملہ ہے۔ پاکستانی فوج نے اس سے پہلے بھی شہر سرکانو پر راکٹ برسائے تھے۔افغانستان کی سرزمین پر پاکستان سے راکٹوں سے حملہ کیا جانا گذشتہ برسوں سے چلا آرہا ایک سنگین مسئلہ ہے۔افغانستان کے خبری ذرایع نے ایسے عالم میں پاکستان کے راکٹ حملوں کی خبر دی ہےکہ پاکستانی حکومت نے ماضی میں اس طرح کے حملے کرنے کی تردید کی ہے۔حکومت پاکستان مشرقی افغانستان پر راکٹ حملوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دعوے کے حق میں دلیل پیش کرتی ہے۔ افغانستان پر پاکستان کے راکٹ حملے مشترکہ سرحدوں پر دہشتگردوں کو نشانہ بنانے میں پاکستانی فوج کا نشانہ چوکنے کا نتیجہ ہے یا پھر طالبان اور دیگر گروہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان بند گمانی اور اختلافات پیدا کرنے کےلئے یہ راکٹ حملے کررہے ہیں۔کابل کی حکومت نے پاکستانی حکومت کی وضاحتوں پر توجہ دئے بغیر پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان پر راکٹ حملوں کا سد باب کردیں اب یہ حملہ خواہ دہشتگردوں کی جانب سے کئے جارہے ہوں یا پھر پاکستانی فوج کی غلطی کا نتیجہ ہوں۔
دوسال پہلے افغانستان نے پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ مشرقی علاقوں پر گولہ باری بندی کردے اسلام آباد سکیورٹی مذاکرات کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اور حالیہ برسوں میں بارہا کابل میں اسلام آباد کے سفیر کو وزارت خارجہ بلا کر اعتراض کیا ہے۔
حکومت افغانستان کا یہ مطالبہ کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے راکٹ حملوں کا ٹھوس طریقے سے مقابلہ کیا جائے منطق اور استدلال پر مبنی مطالبہ ہے۔ کابل حکام کے مطابق پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ملکوں کے حقوق کی رعایت کرے اور اچھی ہمسائیگی کےاصولوں پر عمل کرتے ہوئے اس امر کا سد باب کرے کہ دہشتگرد پاکستانی سرزمین سے افغانستان پرحملے نہ کرسکیں۔ اسی اساس پر یہ ضروری ہے کہ حکومت پاکستان قبائلی علاقوں اور مشترکہ سرحدوں پر چوکسی بڑھا کر افغانستان پر راکٹ حملوں کی روک تھام کرے۔ پاکستانی فوج کی غلطی سے ہونے والی گولہ باری جو کہ دوہزار گیارہ سے جاری ہے اور وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے افغانستان کی حکومت ا ور قوم کے لئے یہ ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ اب ایسے عالم میں جبکہ افغانستان پر پاکستان کی سرزمین سے راکٹ حملے جاری ہیں اس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اسی امر کے تناظر میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ نشستیں ضروری لگتی ہیں تا کہ راکٹ حملوں سمیت دیگر اختلافات حل کئے جاسکیں۔