اسرائیل ، مزید فلسطینی قیدیوں کے قتل کے درپے
صیہونی حکومت فلسطینی قیدیوں کے خلاف اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس دوران اس حکومت کے ایک عہدیدار نے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسیطینی قیدیوں کو قتل کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے-
چنانچہ صیہونی حکومت کے وزیر انٹلی جنس اور ٹرانسپورٹ یسرائیل کاٹس نے کہا ہے کہ بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی قیدیوں کی سزا موت ہے- قابل ذکر ہے کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید فلسطینیوں نے پیر کے روز صیہونی حکومت کی بربریت اور یوم اسیران کی مناسبت سے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا ہے- یسرائیل کاٹس نے فلسطینی قیدیوں کے قتل کے قانون کے مسودے کو دوبارہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے اور اس کی منظوری کی ضرورت پر تاکید کی ہے-
یسرائیل کاٹس نے جو لیکوڈ پارٹی کے رکن بھی ہیں، کچھ عرصہ قبل بھی کہا تھا کہ فلسطینیوں کی ٹارگٹ کلنگ ان کی تحریک کو روکنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس صیہونی وزیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینیوں کو رہا نہیں کیاجانا چاہیے۔ اس انتہا پسند صیہونی عنصر نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو گرفتاری سے قبل ہی قتل کردیا جانا چاہیئے لیکن اب جبکہ وہ قید ہیں تو انہیں ہرگز آزاد نہیں کرنا چاہیئے۔ واضح رہے کہ فلسطینی قیدیوں کو قتل کئے جانے پر اسرائیلی حکام کی تاکید بین الاقوامی قوانین ، انسان دوستانہ قوانین اور تیسرے اور چوتھے جنیوا معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے-
صیہونی حکومت کے اقدامات سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ یہ حکومت عالمی برادری کی خاموشی کے سائے میں مختلف طریقوں سے مزید فلسطینوں کے قتل کے درپے ہے - صیہونی حکام نے بارہا اور مختلف مواقع پر فلسطینی عوام کے قتل عام اور اپنے نسل پرستانہ رجحانات پر تاکید کی ہے- اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو قتل کئے جانے کا مسئلہ ایک بار پھر پیش کئے جانے سے اس حکومت کی پرتشدد اور انسانیت سوز ماہیت کی غمازی ہوتی ہے کہ جو کسی بھی اخلاقی اور قانونی اصولوں کے مطابق نہیں ہے-
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صیہونی حکام ، فلسطینیوں منجملہ فلسیطنی قیدیوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں بلکہ اس حکومت کے حکام نے بارہا صراحت کے ساتھ فلسطینیوں کے خلاف اپنے نسل پرستانہ خیالات کا اظہار کیا ہے- کچھ عرصہ قبل صیہونی حکومت کے سابق وزیر خزانہ اور موجودہ وزیر تعلیم نفتالی بنٹ نے بھی صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید فلسیطنیوں کو قتل کئےجانے کا مطالبہ کیا تھا - نفتالی بنٹ نے کہا تھا کہ کیوں کہ فلسطینی قیدی جیل سے رہائی کے بعد بھی اسرائیل کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اسی لئے بہتر یہی ہے کہ ہم جیلوں میں انہیں ایذائیں اور شکنجے دینے کے بعد قتل کردیں- صیہونی حکام کی جانب سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کئے جانے پر تاکید ایسے میں کی جا رہی ہے کہ یہ حکومت وسیع پیمانے پر فلسطینی عوام خاص طور پر فلسطینی قیدیوں کو سرکوب کرنے میں مشغول ہے-
صیہونی حکومت فلسطینی قیدیوں کو نہایت ہی نامناسب حالات میں رکھتی ہے اور صیہونی جیلوں میں وہ سہولتیں بھی نہیں ہوتیں جو ایک عام جیل میں ہوتی ہیں، اس کے علاوہ فلسطینی قیدیوں کو طرح طرح سے جسمانی ایذائیں بھی پہنچائی جاتی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں صیہونی جیلوں میں شہید ہونے والے نیز لاعلاج بیماریوں اور مستقل طور پر معذور ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اور المناک رویئے کا پتہ چلتا ہے۔ صیہونی حکومت آئے دن فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں گرفتار کرکے نہایت ہی نامناسب حالات میں قید رکھتی ہےاس کے علاوہ انہیں طرح طرح کی بھیانک جسمانی ایذائیں بھی پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ عملی طور سے آہستہ آہستہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ واضح رہے گذشتہ برسوں میں صیہونی حکومت کی بھیانک جیلوں میں دو سو فلسطینی قیدی شہید ہوئے ہیں جس سے ان تمام حقائق کو واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ صیہونی حکومت نے فلسطینی اسیروں کے خلاف اپنی مجرمانہ کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے اور اس طرح سے فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی اپنی نسل پرستانہ پالیسیوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ صیہونی حکومت کی جیلوں کی نہایت نامناسب صورتحال ہے کہ جہاں فلسطینی قیدیوں کو رکھا جاتا ہے اور فلسطینی قیدیوں کودی جانے والی ہولناک جسمانی ایذائیں اس بات کا سبب بنی ہیں کہ اکثر فلسطینی قیدی لاعلاج بیماریوں میں مبتلا اور ہمیشہ کے لئے معذور بن جائیں۔ فلسطینی قیدیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات میں شدت آنے سے قدس کی غاصب حکومت کی بہیمانہ ماہیت کا پتہ چلتا ہے ۔ ان حالات میں عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کی جانب سے صیہونی حکومت کے مجرمانہ اقدامات پر خاموشی اختیارکرنے سے صیہونی حکومت، فلسطینیوں بالخصوص فلسطینی قیدیوں کے خلاف تشدد آمیز اقدامات جاری رکھنے میں مزید گستاخ ہوگئی ہے۔ صیہونی حکومت کے مقابل اقوام متحدہ کی لاپرواہی سے صیہونی جیلوں میں قید تقریبا سات ہزار فلسطینیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوچکا ہے اور یہ مسئلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ عالمی ادارے فلسطینی قیدیوں کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کا اقدام کرے۔