یمن میں مداخلت کی توجیہ کے لئے، سعودی حکام کا مضحکہ خیز بیان
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i279694-یمن_میں_مداخلت_کی_توجیہ_کے_لئے_سعودی_حکام_کا_مضحکہ_خیز_بیان
یمن کے خلاف سعودی عرب کے جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور یمن کے عوام بھی سعودی جارحیتوں کے خلاف وسیع مظاہرے کرکے یمن کے خلاف سعودی جارحیتوں کی مذمت کر رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی یمن کے عوام نے اس ملک کے مختلف علاقوں منجملہ دارالحکومت صنعا میں مظاہرے کرکے آل سعودی کی بربریت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۱۸, ۲۰۱۷ ۱۲:۴۰ Asia/Tehran
  • یمن میں مداخلت کی توجیہ کے لئے، سعودی حکام کا مضحکہ خیز بیان

یمن کے خلاف سعودی عرب کے جرائم میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور یمن کے عوام بھی سعودی جارحیتوں کے خلاف وسیع مظاہرے کرکے یمن کے خلاف سعودی جارحیتوں کی مذمت کر رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں بھی یمن کے عوام نے اس ملک کے مختلف علاقوں منجملہ دارالحکومت صنعا میں مظاہرے کرکے آل سعودی کی بربریت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی حکام ، جو ہر طرح سے یمن میں اپنی جارحیتوں کی توجیہ کے درپے ہیں، اس سلسلے میں بوکھلاہٹ اور تضاد بیانی سے دوچار ہیں چنانچہ ان کی جانب سے مضحکہ خیز مواقف اور بیانات سامنے آرہے ہیں- سعودی عرب کے وزیر دفاع کے مشیر اور یمن کے خلاف تشکیل پانے والے جارح اتحاد کے ترجمان احمد عسیری نے دعوی کیا ہے کہ یمن میں ان کی مداخلت عوام کی جان کے تحفظ کی غرض سے تھی اور یہ اتحاد یمن پر قبضے کے درپے نہیں ہے- انہوں نے مزید کہا کہ یمن کی قانونی حکومت ( یعنی مستعفی اور مفرور صدر منصور ہادی) کا، یمن کی پچاسی فیصد سے زیادہ اراضی پر تسلط ہے اوریمن میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی ہے-

یمن کے عوام کی حمایت میں ، یمن میں مداخلت کی توجیہ کے لئے سعودی حکام کے دعوے ایسے میں کئے جا رہے ہیں کہ یمن میں سعودی عرب کی مداخلت اور جنگ کی آگ بھڑکانے کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر بے گناہ اور مظلوم عوام کا قتل عام ہوا ہے اور وسیع پیمانے پر تباہی مچی ہے- یمن پر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے سعودی عرب اور اس کے اتحاد نے ایک غیر مساوی جنگ مسلط کررکھی ہے جس میں اب تک بارہ ہزار افراد شہید اور چالیس ہزار زخمی نیز پچیس لاکھ افراد آوارہ وطن ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یمن کی اسّی فیصد بنیادی تنصیبات تباہ ہوگئی ہیں۔ جو جرائم سعودی عرب اور اسکے اتحاد نے یمن میں ڈھائے ہیں ان کو عالمی فوجداری عدالت کے آئین کی رو سے جنگی جرائم ، انسانیت سوز جرائم  اور امن و صلح کے خلاف جرائم قراردیا جاسکتا ہے۔ اب تک کسی بھی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے سعودی عرب کے جرائم کے خلاف کوئی بھی ٹھوس اور عمل درآمد کی حامل ضمانت کا اقدام انجام نہیں دیا ہے۔ 

اب جبکہ جنگ کو شروع ہوئے دو سال کا عرصہ گذرچکا ہے، اس جنگ کے طول پکڑنے نیز سعودی اتحاد کے ناکام ہونے کے بعد سعودی عرب اور اس جنگ میں شریک ممالک کوئی نتیجہ حاصل کئے بغیر اسے ختم کرنے کے درپے ہیں- سعودی اتحاد کو، جسے امریکہ کی جانب سے تمام تر فوجی وسائل اور سازوسامان کے ذریعے حمایت حاصل ہے، اس جنگ میں کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور یمن منجملہ دارالحکومت صنعا کے بیشتر علاقے یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے کنٹرول میں ہیں- سعودی عرب کہ جس نے یمن کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا اس امید میں تھا کہ یہ جنگ تیزی کے ساتھ تحریک انصاراللہ کو شکست دینے اور منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گی- لیکن یہ جنگ مختصر مدت میں ختم نہیں ہوئی بلکہ جاری ہے اور عملی طور طول پکڑتی جا رہی ہے- اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ سعودی حکومت نے یمن کی عوامی طاقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس ملک پر حملہ کردیا تھا-

سعودی عرب یمن میں پراکسی وار شروع کرنے کے آغاز سے ہی یہ جنگ ہارا ہوا ہے کیوں کہ آل سعود کے حکومتی ڈھانچے میں اس جنگ کے سبب اختلاف وجود میں آگئے اور یمن کے انقلابی عوام میں اپنی امنگوں کے دفاع کے لئے جو عزم پایا جاتا ہے اس کے مقابلے میں سعودی حکومت کو شکست نصیب ہوئی ہے - یمن کے مختلف شہروں میں سعودی عرب کے خلاف  وسیع پیمانے پر مظاہرے اور ان مظاہروں میں یمن کے مختلف طبقات کی شرکت ، آل سعود سے یمن کے انقلابی عوام کی نفرت و بیزاری اور سعودی عرب کی سرپرستی قبول کرنے سے انکار کے مترادف ہے اور یہی مسئلہ یمن کی جنگ میں آل سعود کی شکست سمجھا رہا ہے- بہرحال یمن کی عوامی مزاحمت نے سعودی حکام کے دانٹ کھٹے کردیئے ہیں اسی لئے یہ حکام انتہائی بوکھلاہٹ اورالجھن کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے وہ عوام کو گمراہ کرنے والے بیان دے رہے ہیں جس کے سبب یہ  شکست خوردہ حکام  ماضی سے زیادہ عوام و خواص کے لئے مضحکہ بن گئے ہیں-