پاکستان کے ساتھ اعتماد کی بحالی پر اشرف غنی کی تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i281330-پاکستان_کے_ساتھ_اعتماد_کی_بحالی_پر_اشرف_غنی_کی_تاکید
ایسے میں جبکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بدستور کشیدگی اور سرد مہری کا شکار ہیں، پاکستان کے اعلی سطحی وفد کا دورہ کابل اہم سیاسی واقعہ ہے اور کشیدگی کے خاتمے کی ایک امید بھی-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۰۱, ۲۰۱۷ ۱۳:۴۷ Asia/Tehran
  • پاکستان کے ساتھ اعتماد کی بحالی پر اشرف غنی کی تاکید

ایسے میں جبکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بدستور کشیدگی اور سرد مہری کا شکار ہیں، پاکستان کے اعلی سطحی وفد کا دورہ کابل اہم سیاسی واقعہ ہے اور کشیدگی کے خاتمے کی ایک امید بھی-

پاکستان کے پارلیمنٹ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اپنے دورۂ کابل میں افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی سے کابل میں ملاقات کی - سردار ایاز صادق پندرہ رکنی وفد کے ساتھ کابل کے دورے پر ہیں - اشرف غنی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان و پاکستان  کے حکام کے درمیان ملاقاتوں میں اضافے اور اسلام آباد کی جانب سے اپنے وعدے پورے کئے جانے سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان عدم اعتماد کی فضا ختم ہوسکتی ہے- گذشتہ دو ہفتے کے دوران کسی پاکستانی وفد کا یہ دوسرا دورہ ہے- اس سے قبل پاکستان کے ایک فوجی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور کہا جا رہا ہے کہ عنقریب ہی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ بھی کابل کا دورہ کرنے والے ہیں - اگرچہ اشرف غنی نے پاکستانی وفود کے دورہ کابل کو دونوں فریق کے درمیان اعتماد کی بحالی کی راہ میں مثبت اور اہم قرار دیا ہے تاہم عدم اعتماد کی فضا افغانستان و پاکستان کے تعلقات پر سایہ فگن ہے-

فرضی ڈیورنڈ لائن کے بارے میں دونوں ملکوں کے اختلافات کے علاوہ، دہشت گردی اور طالبان سے مقابلے کے طریقہ کار کا مسئلہ بھی کابل اور اسلام آباد کے تعلقات میں کشیدگی والے مسائل کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے- افغانستان میں پاکستان کے روایتی حریف ہندوستان کا اثر ورسوخ بھی حال ہی میں دونوں ملکوں کے اختلافات میں اضافے کا سبب بنا ہے- ایسے ماحول میں پاکستان کے سیاسی اور پارلیمانی وفود کا دورہ افغانستان، اس مقصد سے انجام پا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی پر کنٹرول کیا جائے اور اسے عوامی سطح پر پھیلنے نہ دیا جائے- اسی سبب سے پاکستان کے اعلی سطحی وفود، کہ جو پارٹیوں کے لیڈروں اور مختلف سیاسی و پارلیمانی دھڑوں پر مشتمل ہیں، افغانستان کا دورہ کر رہے ہیں-        

گذشتہ دوبرسوں میں جب سے افغانستان میں قومی اتحاد کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے صدر افغانستان کی جانب سے اسلام آباد کے ساتھ اختلافات حل کرنے بالخصوص سرحدی مسائل حل کرنے کی کوششوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی مسائل میں شدت آئی ہے اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے جس میں کچھ سرحدی باشندے مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ محمد اشرف غنی کے افغان صدر بننے کے بعد افغانستان نے یہ اعلان کیا کہ افغانستان کے امن کا راستہ پاکستان سے گزرتا ہے، اور اس نے اس ملک کے لیے ریڈ کارپٹ بچھا کر اسلام آباد حکومت سے اپیل کی کہ وہ طالبان کو افغانستان کے امن عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دلائے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب افغانستان کے امن عمل کا ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے بلکہ افغان حکومت نے پاکستان پر اس سلسلے میں رکاوٹیں ڈالنے، طالبان گروہ اور حقانی نیٹ ورک کی حمایت جاری رکھنے اور دہشت گرد گروہ داعش کو وجود میں لانے کا الزام لگایا ہے۔

افغانستان میں بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں مختلف حلقے حکومت کابل کو ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کروانے کے لئے طالبان اور سرحدی دباؤ سے استفادہ کررہے ہیں اسی بنا پر افغانستان کے عوام نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر پاکستانی فوجیوں کے سرحدی اقدامات کا ٹھوس طریقے سے مقابلہ کرے بالخصوص سفارتی طریقے سے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے تا کہ ہر طرح کے ناخوشگوار واقعات کا سد باب کیا جاسکے۔ بہرحال سیاسی مبصرین کے بقول چنانچہ پاکستانی فوج کے سرحدی اقدامات کو روکنے کےلئے افغانستان کے سفارتی اقدامات مفید واقع نہیں ہوتے اور افغانستان کے عوام کے احتجاج میں شدت آتی ہے تو ممکن ہے کہ اس کے نتائج ناقابل کنٹرول ہو جائیں۔