پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سمجھوتہ
افغانستان کے دورے پر گئے پاکستان کے خفیہ ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحد پر دہشتگردی کے خلاف کاروائی انجام دینے پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے۔
اس سعجھوتے کے تحت آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل نوید مختار اور افغانستان کے اعلی فوجی حکام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملکوں کی سرحدوں سے دہشتگردون کی آمد و رفت کو روکنے کے لئے مشترکہ کاروائیاں کی جائیں گی۔ اس وقت پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ سرحدی سلامتی ہے۔ اسلام آباد حکومت کابل پر الزام لگاتی ہے کہ وہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لئیے سنجیدہ اقدامات انجام نہیں دیتی۔ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی کاروائیوں میں اضافے کے تناظر میں کابل حکومت اسلام آباد تر تنقید کرتی ہے کہ پاکستان کی لاجسٹک مدد کیے بغیر طالبان افغانستان میں اتنی بڑی کاروائیاں انجام نہیں دے سکتے۔پاکستان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے افغان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ افغانستان کی خفیہ ایجنسی ہندوستانی ایجینسیوں کے ساتھ ملکر پاکستان کے سلامتی کے خلاف اقدامات انجام دیتی ہیں۔حکومت پاکستان افغان حکومت پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو باقاعدہ تسلیم کرے تاہم افغان حکومت کی طرف سے انکار اور ہندوستان سے تعلقات میں فروغ کی وجہ سے اس کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اس تناظر میں پاکستان کے دو اعلی وفود نے گزشتہ ہفتے کابل کا دورہ کیا ہے جس میں آئی آیس آئی کے سربراہ کا دورہ کابل بھی شامل ہے۔ آئی آیس آئی چیف کے دورہ کابل کے دوران دہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کاروائیوں پر اتفاق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے کابل حکومت کو اعتماد میں لینے کی بھر پور کوشش کی ہے اور آئی آیس آئی کے سربراہ کو اس میں شامل کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس مسئلے میں بہت زیادہ سنجیدہ ہے۔
دوسری طرف افغانستان کے سیاسی حلقے آئی آیس آئی کے سربراہ کے حالیہ دورے اور ان کے مختلف سمجھوتوں پر یقین کرتے نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی پاکستان کے کئی رہنماؤں من جملہ سابق آرمی چیف راحیل شریف نے بھی کابل دورے میں جو وعدے کئے تھے ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اعلی حکام اس طرح کے دوروں اور سمجھوتوں سے صرف رائے عامہ کی تو جہ ان مشکلات سے ہٹانا چاہتے جو اسلام آباد کی وجہ سے افغان عوام کو در پیش ہیں۔ بہرحال دہشتگردی دونوں ملکوں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس عفریت سے مقابلے کے لئے دونوں ملکوں کا باہمی تعاون نہایت ضروری ہے۔افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے دہشتگردانہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس صورت حال کا سب سے زیادہ فائدہ صرف دہشتگردوں کو پہنچ رہا ہے دوسری طرف افغان حکومت چونکہ پاکستان کو افغانستان کی حالیہ بد امنی کا زمہ دار قرار دیتی ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار اور ساکھ مجروح ہوتی ہے ۔آئی ایس آئی کے سربراہ کا دورہ کابل اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون پر اتفاق بظاہر ایک نمائشی اقدام تصور کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان صدر اشرف غنی تمام چیزوں سے زیادہ پاکستان سے اعتماد سازی پر تاکید کرتے ہیں۔