ایران مخالف امریکی پروپگنڈے ، گھسے پٹے دعووں کی تکرار
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i294334-ایران_مخالف_امریکی_پروپگنڈے_گھسے_پٹے_دعووں_کی_تکرار
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے منگل کو ، ایران کی میزائلی طاقت کو خطرہ بتاتے ہوئے ایران کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے گھسے پٹے دعووں کی تکرار کی اور کہا کہ ایران کو اپنے میزائل تجربوں، دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق سے بے توجہی کے تعلق سے جواب دہ ہونا چاہئے-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۱۶, ۲۰۱۷ ۱۳:۱۵ Asia/Tehran
  • ایران مخالف امریکی پروپگنڈے ، گھسے پٹے دعووں کی تکرار

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے منگل کو ، ایران کی میزائلی طاقت کو خطرہ بتاتے ہوئے ایران کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت اور ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے گھسے پٹے دعووں کی تکرار کی اور کہا کہ ایران کو اپنے میزائل تجربوں، دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق سے بے توجہی کے تعلق سے جواب دہ ہونا چاہئے-

نیکی ہیلی نے ایک بار پھر یہ دعوی کیا کہ امریکہ کی نئی پابندیوں کا ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے- ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے وقت سے خاص طور پر گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی پالیسیوں پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان پالیسیوں میں اوباما کے دور کی بہ نسبت بظاہر کچھ فرق آیا ہے لیکن اصل میں امریکی پالیسیوں میں قابل محسوس فرق کا مشاہدہ نہیں کیا جا رہا ہے- 

امریکہ نے 1995 میں بل کلنٹن کے دور میں ، تیل کی مصنوعات کے شعبے میں ایران کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں - بارک اوباما نے بھی 2010 میں ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کیں- پھر 2016 میں بھی ایٹمی معاہدہ انجام پانے کے باوجود، ایران کے میزائل پروگرام کو بہانہ بناکر امریکہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کردیں - امریکہ نے اسی طرح 2017 کے آغاز سے ایران کی مختلف شخصیات، غیر ملکی کمپنیوں اور میزائل پروگرام سے متعلق ایرانی ادارے کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی خبر دی ہے- 

 ایٹمی معاہدے کے بعد امریکی رویوں میں تبدیلی آئی ہے جبکہ سابق صدر اوباما  یہ دعوی کر رہے تھے کہ ایران کے ساتھ تعاون میں وہ ایٹمی معاہدے کے سمجھوتے کے پابند ہیں- کیوں کہ وہ ایٹمی معاہدے کو ایک کامیابی سمجھ رہے تھے لیکن ٹرمپ نے اسے بدترین معاہدے کا نام دیا- اس وقت ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ حالات مزید بدتر ہوتے جا رہے ہیں- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے منگل کو یہ اعلان کیا کہ اگر امریکہ نے ایران مخالف پابندیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو تہران مختصر عرصے میں جامع ایٹمی معاہدے سے باہر نکل جائے گا-

منگل کے روز پارلیمنٹ میں اپنی کابینہ کے ارکان کی صلاحیتوں کے جائزے اور رائے شماری کے لیے ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی حکام کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ پابندیوں اور تسلط پسندی کے ناکام تجربات ہی ماضی کی امریکی حکومتوں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لائے تھے اور اگر وہ ناکام تجربات کو دوہرانا چاہتے ہیں تو شوق سے دوہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یقینا اسلامی جہموریہ ایران بہت جلد جوہری مذاکرات شروع ہونے سے پہلے والے دور سے بھی زیادہ جدید ترین حالات کے ساتھ واپس پلٹ جائے گا۔ 

البتہ امریکہ کا رویہ کچھ ایسا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے ذریعے اس بات کے درپے ہے کہ ایران کو ایٹمی معاہدے سے پسپائی پر مجبور کردے تاکہ ایران، ایٹمی معاہدے سے نکلنے میں پہل کرے-

جوہری تخفیف اسلحہ کے ماہر طارق رئوف ریڈیو اسپوٹنیک کے ساتھ انٹرویو میں کہتے ہیں ، ایٹمی معاہدے سےایران کے نکل جانے کا براہ راست فائدہ امریکہ کو پہنچے گا-

روس کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز سنٹر کے تجزیہ نگار ولادیمیر فیٹین کا بھی خیال ہے کہ " لفظی جنگ " سے استفادے کی جانب امریکی صدر ٹرمپ کا رجحان، ایک طرح سے سیاسی عمل میں تبدیل ہوگیا ہے- اس پالیسی کے جاری رہنے کی صورت میں یقینا ایک کی شکست ہوگی اور وہ امریکہ ہے - امریکہ نئے عالمی نظام کا دعویدار ہے ، جبکہ آب و ہوا کے پیرس معاہدے سے خود کو الگ کرنے کے اپنے فیصلے کے ذریعے امریکہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی قوانین کے احترام کا قائل نہیں ہے- 

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ امریکہ نے یہ ثآبت کر دکھایا ہے کہ نہ ہی وہ ایک اچھا شریک ہے اور نہ ہی قابل اعتماد مذاکرات کرنے والا ملک ہے- انہوں نے کہا کہ دنیا نے حالیہ مہینوں کےدوران اس بات کا کھل کر مشاہدہ کیا ہے کہ امریکہ عالمی معاہدوں کو نظر انداز کر رہا ہے اور جامع ایٹمی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کے علاوہ  اس نے پیرس معاہدے، کیوبا پیکٹ اور آزاد تجارتی معاہدے نفٹا کو بھی پامال کردیا ہے اور جو افراد طاقت ، دھمکی اور پابندی کے ہتھکنڈے استمعال کرنے کے درپے ہیں ، درحقیقت وہ ماضی کے توہمات کے اسیر ہیں اور خود کو امن کے فوائد سے محروم کر رہے ہیں-