امریکہ کی جانب سے توہین پر عراقی وزیرخارجہ کا ردعمل
عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد الحاجب نے امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوئرٹ کے بیان کی جس میں عراقی رضاکار فورس کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المھندس کو دہشتگرد کہا گیا ہے، مذمت کی ہے۔
عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی نے بھی گذشتہ ہفتے اس ملک کی رضاکار فورس کے خلاف امریکی حکام کی جانب سے پھیلائی جانے والی افواہوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رضاکار فورس کو علاقے اور عراق کے لئے امید کی کرن قراردیا تھا-عراقی پارلیمنٹ نے چھبیس نومبر دوہزار سولہ میں بھاری اکثریت سے عراقی رضاکار فورس الحشدالشعبی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے اس ملک کی مسلح افواج کا حصہ قرار دیا تھا - حالیہ دنوں میں عراق کی رضاکار فورس کے خلاف امریکہ کی ماحول سازی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عراق کی کامیابی اور اس میں عوامی رضاکار فورس کی جانب سے موثر کردار ادا کرنے کے بعد عراق کے بہتر ہوتے ہوئے حالات پر امریکی حکام سخت ناراض ہیں- عراقی عوام کی جانب سے اپنی مختلف داخلی توانائیوں خاص طور سے رضاکار فورس کی صلاحیتوں کے سہارے اپنی دفاعی طاقت کو بڑھاکر ، دہشتگردی کے ذریعے اس ملک کو کمزور کرنے اوراسے تقسیم کرنے کے امریکی منصوبے کوناکام بنا دیئے جانے پر واشنگٹن سخت غصے میں ہے- علاقے اور عراق میں عوامی رضاکار فورس کی، جو علاقے میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے نمونہ عمل اور دہشتگردی کے مقابلے میں عراقیوں کے لئے ایک مضبوط ڈھال میں تبدیل ہو چکی ہے، روزبروز بڑھتی ہوئی مقبولیت نے دہشتگردوں کی تربیت اور ان کو کنٹرول کرکے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے امریکی منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے- ان نتائج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکیوں کے دعؤوں کے کھوکھلے پن اور اس کے ساتھ ہی داعش کے خلاف نام نہاد امریکی اتحاد کی ناکامیوں کی جانب توجہ کو پہلےسے زیادہ بڑھا دی ہے-
عراق کی رضاکار فورس کے خلاف امریکی حکام کے الزامات ایسے عالم میں سامنے آرہے ہیں کہ امریکہ دہشتگردی کی اچھی اور بری تقسیم کے سہارے دہشتگردوں کے ساتھ اشتراک عمل جاری رکھنے اور اس دہشتگردی کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے جس کا وہ خود حامی رہا ہے- انھیں حالات کے پیش نظر حالیہ مہینوں میں عراق میں دہشتگردی کے خلاف نام نہاد امریکی اتحاد کی مداخلت پسندانہ اور خودسرانہ غیرقانونی کارروائیوں کا سلسلہ ختم کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی گئی ہے جبکہ عراق کی رائے عامہ بھی اس ملک سے امریکی فوجیوں کے نکلنے کی خواہاں ہے- عراق میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بہانے سیکڑوں امریکی فوجی موجود ہیں - ان حالات میں امریکی حکام اپنی تفرقہ انگیز اور خود غرضی پر مبنی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے داعش کی پسپائی کے بعد بھی اپنے فوجیوں کو عراق میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس ملک میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھا سکیں اوراسے جدید خطرات سے دوچار رکھیں- لیکن حالیہ دنوں میں حقائق کو الٹا پیش کرنے کی امریکیوں کی مکارانہ پالیسیوں اور جھوٹے پروپیگنڈوں کے مقابلے میں عراقی حکام کا ردعمل ان کی ہوشیاری کی علامت ہے-
حالیہ واقعات، علاقے میں عوامی رضاکار فورس کے خلاف امریکہ کی پروپیگنڈہ جنگ کی ناکامی اورعوام کے درمیان سے اٹھنے والی اس عوامی طاقت کو کسی طرح کا نقصان پہنچانے میں شکست کی حیثیت رکھتے ہیں کہ جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک حیرت انگیز طاقت بن کر ابھری ہے- اورعراقی وزارت خارجہ کی جانب سے اس ملک کی رضاکارفورس کے ڈپٹی کمانڈر کی تعریف و تمجید کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے-