دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی دین سے جنگ نہیں ہے: مودی
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے مختلف ملکوں میں تشدد اور دہشت گردی میں فروغ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب کے ساتھ لڑائی نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہوسکتا ہے-
ارنا کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے دارالحکومت نئی دہلی میں ورلڈ صوفی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میں جب کہ علاقے کے بہت سے ملک تشدد اور جنگ کی لپیٹ میں ہیں اس طرح کی کانفرنسوں اور اجلاسوں کا انعقاد بہت اہمیت رکھتا ہے-
مودی نے کہا کہ اسلام امن، بقائے باہمی، ہمدردی، مساوات اور عالمی بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور اسی درس کو صوفیائے کرام نے عوام تک پہنچایا ہے۔
ہندوستانی وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردوں سے فوجی مقابلہ کرنے کے ساتھ ہی ان کے انتہاپسندانہ افکار کا بھی مقابلہ کرنا چاہئے-
ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے صوفیوں کی آوازکو "امن کی آواز" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ کے ننیانوے نام رحمت، شفقت اور محبت کے سوا کچھ اور نہیں ہیں۔
نریندر مودی نے کہا کہ "جب ہم اللہ کےننیانوے ناموں کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس میں سے کوئی بھی، طاقت اور تشدد کے حوالے سے نہیں ہے، اللہ کے پہلے دو ناموں کے معنی شفقت اور رحم کرنے والا، اللہ، رحمٰن اور رحیم ہے"۔خطاب کے دوران نریندر مودی نے دنیا میں مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ "وہ جو مذہب کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے ہیں وہ مذہب کے مخالف ہیں، دہشت گردی کے خلاف لڑائی کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے ، یہ نہیں ہوسکتی"۔
صوفیوں کی تعریف کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ "جس وقت تشدد کے کالے اندھیرے چھانے لگیں گے آپ اس میں اُمید کی کرن ہونگے"۔
مودی نے مزید کہا کہ سب کو خدا نے پیدا کیا ہے اور اگر ہم خدا سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی بنائی ہوئی ہر چیز سے محبت کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی منعقدہ ورلڈ صوفی فورم میں ایران سمیت دنیا کے چالیس ملکوں کی شخصیات اور نمائندے شریک ہیں-