پاکستانی ہائی کمشنر ہندوستانی وزارت خارجہ میں طلب
-
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان، وکاس سوروپ
ہندوستان نے کہا ہے کہ اس نے سرحد پار سے اڑی سیکٹر پر دہشتگردانہ حملے کے ثبوت پاکستان کے حوالے کر دیے ہیں۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو وزرات خارجہ میں طلب کر کے یہ ثبوت دیئے ہیں- وکاس سوروپ نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے بتایا گیا ہے کہ حملے میں تعاون کرنے والے دو گائیڈوں کو گاؤں کے باشندوں نے پکڑا جو اس وقت حراست میں ہیں-
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں گائیڈوں کا تعلق مظفرآباد سے ہے اور ان کا نام فیض الحسین آوان اور یاسین خورشید ہے- وکاس سوروپ کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں اڑی حملے میں مارے جانے والے ایک حملہ آور کی شناخت مظفرآباد کے باشندے حافظ احمد کے نام سے ہوئی ہے-
پاکستان پر دباؤ جاری رکھنے کی پالیسی کے تحت منگل کو ہندوستان نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو دوبارہ طلب کیا- ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس نے اڑی میں فوجی چھاؤنی پر حملہ کرنے والے افراد کا تعلق سرحد پار سے ہونے کے ثبوت پاکستانی حکام کے حوالے کئے ہیں - دوسری جانب پاکستانی ہائی کمشنر نے ان ثبوتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان، کشمیرمسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر الزام نہ لگائے- ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان اس سلسلے میں سنجیدہ ہے تو وہ بین الاقوامی تحقیقات سے کیوں پیچھے ہٹ رہا ہے-
واضح رہے کہ رواں مہینے اٹھارہ ستمبر کو جمو کشمیر کے ضلع براہ مولا کے اڑی سیکٹر میں ہندوستانی فوج کی چھاؤنی پر حملہ ہوا تھا جس میں اٹھارہ فوجی ہلاک ہوئے تھے- حملے کے فورا بعد ہندوستان نے پاکستان پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا-