طلاق ثلاثہ بل منظور، اپوزیشن کا واک آوٹ
تمام اپوزیشن جماعتوں نے طلاق ثلاثہ بل کو جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا جسے حکومت نے خارج کردیا۔
ہندوستان کی پارلیمنٹ لوک سبھا میں تین طلاق بل منظورہوگیا ہے۔ بحث مکمل ہونے کے بعد کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ایوان سے واک آوٹ کردیا۔ اس دوران مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورممبرپارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پانچ ترامیم پیش کیں، جو خارج کردی گئیں۔
مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اورممبرپارلیمنٹ اسد الدین نے کہا کہ حکومت کے قانون اورجبرودباو سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہم اپنے مذہب پرعمل کریں گے اوررہتی دنیا تک اسلام پرعمل کرتے رہیں گے۔ کیونکہ مسلم خواتین کی پوری آبادی اس بل کے خلاف ہے
ممبرپارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی شریعت میں مداخلت ہے۔ یہ بل مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو چھیننے کی ہے۔
مرکزی وزیراسمرتی ایرانی نے طلاق ثلاثہ بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 477 بہنیں آج بھی متاثرہیں، جوسپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی طلاق بدعت کا شکارہوئی ہیں۔ اگرایسا ہوتا ہے تواس ایوان کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس بہن کو انصاف دلائیں۔
مودی حکومت کا کہنا ہے کہ تین طلاق کے ذریعہ مسلم خواتین کوانصاف دلانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس پراپوزیشن جماعتوں اورخاص طورپرملی تنظیموں اوراس کے رہنماوں نے حکومت کے اس عمل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کالعدم قراردیئے جانے کی اپیل کی ہے۔
طلاق ثلاثہ بل پرسماجوادی پارٹی کے قدآورلیڈراعظم خان نے کہاجو لوگ اسلامی شریعت کے تحت طلاق نہیں دیتے ہیں، وہ طلاق نہیں مانا جاتا ہے۔ طلاق پرقانون بنے یا نہ بنے، اللہ کے قانون سے بڑا کوئی قانون نہیں ہے۔