دہلی میں کورونا کی دوسری لہر پر ڈاکٹروں کی تشویش
ہندوستان میں پچھلے کئی دنوں سے کورونا وائرس کے انفیکشن کے معاملوں میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ لیکن دہلی میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔
ہندوستان کے دار الحکومت دہلی میں پچھلے ایک ہفتے سے ہر دن 5 ہزار سے زیادہ معاملوں نے ڈاکٹروں کی تشویش بڑھا دی ہے۔
ایمس (AIIMS) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا (Randeep Guleria) نے کہا کہ اب لوگ کورونا کو لے کر لا پروا ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اور پروگراموں میں سماجی دوری کا دھیان نہیں رکھا جا رہا ہے اور بازاروں میں بھی لوگ بغیر ماسک کے گھوم رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تہوار کا موسم آنے کے بعد سے بازار میں بھیڑ بڑھ بھاڑ ہو جانے کے باوجود لوگ ماسل اور سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ رہے اور ان کو لگنے لگا ہے کہ کورونا اب ختم ہونے جا رہا ہے۔
ڈاکٹر گلیریا نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کورونا ابھی آدھے راستے میں پہنچا ہے، دہلی میں جس طرح سے لوگوں نے لاپرواہی برتی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ کورونا کا عروج دہلی میں اب ایک بار پھر دکھائی دینے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں بہت ضروری ہو تبھی گھر سے باہر نکلیں اور سماجی دوری پرعمل کریں۔
ڈاکٹر گلیریا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹھنڈ بڑھنے کے ساتھ ہی کورونا وائرس اور خطرناک ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھنڈ میں وائرس ہوا میں زیادہ دیر تک رہ سکے گا جس کے سبب انفکشن کا امکان اور بھی زیادہ بڑھ سکتا ہے۔