ہندوستان میں ایشیا کے سب سے بڑے ہیلی کاپٹرساز کارخانے کا افتتاح
ہندوستان نے پیر کے دن ایشیاء کے سب سے بڑے ہیلی کاپٹرساز کارخانے کا افتتاح کیا ہے جس میں سالانہ ایک ہزار سے زیادہ کثیرالنوعیت ہیلی کاپٹربنانے کی گنجائش موجود ہوگی جوہندوستان کے میڈان انڈیا ہدف حاصل کرنے میں ایک اہم قدم ہوگا۔
سحرنیوز/ ہندوستان: ہندوستان نے اپنے سالانہ بجٹ میں جہاں ایک طرف دوگنا اضافہ کیا ہے وہاں پر ملکی سطح پر اس نے ایشیاء کے سب سے بڑے ہیلی کاپٹرساز کارخانے کا بھی افتتاح کیاہے جس میں سالانہ ایک ہزار ہیلی کاپٹر بنانے کی گنجائش موجود ہوگی ۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اوروہ اپنے زیادہ تر ہتھیاراپنے قدیمی اورتاریخی حلیف روس سے خریدتا ہے۔
ہندوستانی وزیراعظم نرنیدرا مودی نے اس کارخانے کی افتتاحی تقریب میں کہا کہ ہیلی کاپٹربنانے کا یہ نیا کارخانہ ہماری حکومت کے اس وعدے کا اظہار ہے جس میں ہم نے کہا تھا کہ ہم اپنی دفاعی ضروریات کے لئے دوسرے ممالک پر انحصاربتدریج کم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہورہی ہے کہ سینکڑوں اقسام کے ہتھیاراوردفاعی ہتھیار جو جدید اسالٹ رائفل سے لے کر ٹینکوں، ائیرکرافٹ کیئرئر، ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر تک اب ہندوستان میں تیار ہورہے ہیں۔
اس نئے کارخانے میں سب سے پہلے ہندوستان ساختہ لائٹ یوٹیلٹی ہیلی کاپٹر کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا جس کےبعد دوسرے مراحل میں دوسرے کثیرالجہتی ہیلی کاپٹر بنائے جائیں گے۔
اس نئے کارخانے کا افتتاح اس وقت کیا گیا ہے جب چندماہ پہلے ہی ہندوستان نے اپنے پہلے مقامی طور پر ساختہ لائٹ اٹیک ہیلی کاپٹر کا افتتاح کیا تھا جس ہمالیہ کے پہاڑوں اور دوسرے اونچے مقامات پرلڑنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ہندوستان نے ستمبر 2022 میں مقامی طور پر تیارکردہ جنگی طیاروں کے حامل ائیرکرافٹ کیئرئر کو دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اورساتھ ہی نیوکلئیرری ایکٹرسے چلنے والی آبدوز سے میزائل داغنے کا تجربہ بھی انجام دیا تھا جس سے ہندوستان دنیا کے ان چھ ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جو زمین، ہوا اورسمندر سے ایٹمی حملے انجام دے سکتے ہیں۔
ہندوستان کے اپنے ایٹمی صلاحیت کے حامل ہمسایہ ممالک چین اورپاکستان سے عرصہ دراز سے سرحدی اختلافات چلے آرہے ہیں اور ہندوستان کی ان ممالک کے ساتھ کئی جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ 2020ء میں چین کے ساتھ ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں ہندوستان کے 20فوجی مارے گئے تھے جب کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں میں ہندوستان کو اپنے دو جنگی طیاروں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اوراس کا ایک پائلٹ پاکستان نے گرفتارکرلیا تھا۔