ہندوستان: بھوپال میں جشنِ میرؔ"مستند ہے میرا فرمایا ہوا"
ریاست مدھیہ پردیش کے صدر مقام بھوپال میں بروز ہفتہ مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام "جشنِ میرؔ" منعقد ہوا، جشن کا موضوع تھا "مستند ہے میرا فرمایا ہوا"
سحر نیوز/ ہندوستان: رواں عیسوی سال 2023 میں "خدائے سخن" میر تقی میؔر کی ولادت کو تین سو سال پورے ہونے پر بین الاقوامی سطح پر جشنِ میرؔ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے کی کڑی میں ہندوستان کے شہر بھوپال کے اسٹیٹ میوزیم میں بھی "جشنِ میرؔ" کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے کیا۔ "مستند ہے میرا فرمایا ہوا" کے موضوع پر منعقدہ جشن میؔر میں ہندوستان اور بیرونی ممالک کے اردو کے ممتاز دانشوروں نے شرکت کی اور حیات میؔر اور ان کی شاعری پر اظہار خیال کیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق "جشنِ میرؔ" کی صدارت عالمی شہرت یافتہ ممتاز ادیب اور محقق ڈاکٹر تقی عابدی (کینیڈا) نے کی۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے خطبہ صدارت میں پہلے تو اس جشن کے انعقاد کے لئے مدھیہ پردیش اردو اکادمی کو مبارک باد پیش کی اور پھر میؔر کی سوانح "ذکر میر" کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ میؔر نے زندگی کے ہزار رنگ دیکھے تھے اور وہ سارے رنگ میؔر کی شاعری میں کسی نہ کسی سطح پر پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص منفرد انداز رکھتا ہے لیکن یقین کیجئے یہ بات اگر کسی پر صادق آتی ہے تو وہ میؔر تقی میر کی ذات ہے۔ جب کبھی انسان کا ذکر ہوگا، انسانیت کا ذکر ہوگا، اعلیٰ اقدار کا ذکر ہوگا، عشق کا ذکر ہوگا تو اپنے کلام اور انداز بیان سے میؔر ہی رہنما بن کر ہمارے سامنے نظر آئیں گے۔
جشن میؔر کے آغاز میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے جشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعہ نئے تخلیق کار خصوصاً ریسرچ اسکالر اور طلبا یہ جان سکیں گے کہ اردو شاعری میں میر تقی میؔر کو "خدائے سخن" کیوں کہا جاتا ہے اور یہ کہ نوجوان نسل یہ جان سکے گی کہ اس شاعر کی عظمت کس وجہ سے ہے.
جشن میؔر میں ڈاکٹر تقی عابدی کو مدھیہ پردیش حکومت کے باوقار "کل ہند اقبال اعزاز" سے نوازا گیا۔ "کل ہند اقبال اعزاز" میں ڈاکٹر تقی عابدی کو ایک شال، توصیفی سند اور دو لاکھ روپے کا چیک پیش کیا گیا۔
"خدائے سخن" کے خطاب کے حامل اردو کے عظیم شاعر میر تقی میؔر کی ولادت سنہ 1723 میں آگرے میں ہوئی تھی اور رواں سال میں ان کی ولادت کو تین سو سال پورے ہوگئے لہٰذا میؔر کی تین سو سالہ سالگرہ کی مناسبت سے دنیا کے مختلف ممالک میں جشن میؔر کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ میر تقی میؔر اردو کے ایسے شاعر ہیں جن کی عظمت کا اعتراف، مرزا غالبؔ، ذوقؔ اور سوداؔ جیسے بڑے بڑے شاعروں نے کیا ہے۔ ذوقؔ دہلوی کا یہ مشہور شعر ملاحظہ ہو ؎
نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب
ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا
بابائے اردو مولوی عبد الحق نے کہا ہے کہ "میر تقی میؔر سرتاجِ شعرائے اردو ہیں، ان کا کلام اسی ذوق و شوق سے پڑھا جائے گا جیسے سعدیؔ کا کلام فارسی میں۔ اگر دنیا کے ایسے شاعروں کی ایک فہرست تیار کی جائے جن کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا تو میؔر کا نام اس فہرست میں ضرور شامل ہوگا۔" یا رشید احمد صدیقی کے الفاظ میں، "غزل شاعری کی آبرو ہے اور میر غزل کے بادشاہ ہیں۔"