سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈینینس آئین کے خلاف
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i421818-سپریم_کورٹ_کے_فیصلے_کے_خلاف_آرڈینینس_آئین_کے_خلاف
ہندوستان کی عام آدمی پارٹی نے دہلی حکومت کے اعلی افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈینینس کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۲۰, ۲۰۲۳ ۱۴:۲۱ Asia/Tehran
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈینینس آئین کے خلاف

ہندوستان کی عام آدمی پارٹی نے دہلی حکومت کے اعلی افسران کے تبادلے اور تعیناتی کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈینینس کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے۔

سحر نیوز/ ہندوستان: عام آدمی پارٹی کے سینیئررہنما اور ایم پی راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مودی حکومت دہلی کے عوام کے کام کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آرڈینینس لائی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کا فیصلہ تھا جس کو آرڈینینس کے ذریعے پلٹ دینا غیر آئینی ہے ۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا کہ دہلی کے ریاستی افسران کی تقرری اور تبادلے کا اختیار منتخب ریاستی حکومت کے پاس ہوگا جو دو کروڑ کو جواب دہ ہے۔ مرکزی حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے عدالت عظمی کے فیصلے پر عمل درآمد کو روک دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ایم پی راجیہ سبھا سنجے سنگھ نے کہا کہ آرڈینینس کو آئین کے دائرے میں ہونا چاہئے اور کوئی بھی آرڈینینس آئین کے خلاف نہیں لایا جاسکتا۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ آرڈینینس اب صرف اروند کیجریوال یا عام آدمی پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کی عظیم جمہوریت کا مسئلہ ہے جس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ بابا صاحب امبیڈکر کا لکھا ہوا آئین بچے گا یا نہیں ۔