فوجی میدان میں ایران اور روس کے اسٹریٹیجک تعلقات
-
ایران اور روس کے درمیان دسمبر دو ہزار پانچ میں ایس تھری ہنڈرڈ میزائلی نظام کے سلسلے میں معاہدہ ہوا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ منصور حقیقت پور نے کہا ہے کہ علاقائی اور علاقے سے باہر کے بعض ممالک ایران اور روس کے اسٹریٹیجک تعلقات کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
منصور حقیقت پور نے اتوار کے دن پارلیمنٹ نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کے دوران فوجی اور دفاعی میدانوں میں ایران اور روس کے تعلقات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ روس کی جانب سے ایران کو ایس تھری ہنڈرڈ دفاعی نظام کی تحویل کا سلسلہ روکے جانے پر مبنی بعض عرب اور صیہونی ذرائع ابلاغ کا دعوی سراسر جھوٹ ہے۔
منصور حقیقت پور نے فوجی اور دفاعی میدانوں میں ایران اور روس کے تعلقات کو مستحکم اور پائیدار قرار دیا اور کہا کہ ایرانی وزیر دفاع کے حالیہ دورۂ روس سے فوجی اور دفاعی میدانوں میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ منصور حقیقت پور نے یہ بات زور دے کر کہی کہ روس کی جانب سے ایران کو ایس تھری ہنڈرڈ دفاعی نظام کا دیا جانا یقینی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور روس کے درمیان دسمبر دو ہزار پانچ میں ایس تھری ہنڈرڈ میزائلی نظام کے سلسلے میں معاہدہ ہوا تھا۔ اس نظام کے ذریعے ہر طرح کے فضائی حملے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔