ایران کا میزائل پروگرام سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے منافی نہیں، جابری انصاری
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان صادق حسین جابری انصاری نے کہا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام کا جامع ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان صادق حسین جابری انصاری نے امریکا کی جانب سے ایران کے میزائل پروگرام کی مدد کے بہانے، یکطرفہ پابندیوں کی فہرست میں نئے ناموں کے اضافے پر رد عمل میں جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام کا جامع ایٹمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ پروگرام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے بھی منافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام پوری طرح سے دفاعی اہداف کا حامل ہے اور کسی کو بھی ایران کو اس کی قومی سلامتی اور دفاعی طاقت کی تقویت کے جائز اور قانونی حق سے محروم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ علاقے کے سخت اور سیکورٹی سے متعلق حالات میں ایران کی دفاعی توانائی، علاقے کی سلامتی اور استحکام کا اہم سبب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام صرف قومی حاکمیت کی پاسداری اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے نیز علاقے اور دنیا کے مشترکہ مفادات کے مطابق ہے۔ جابری انصاری نے مزید کہا کہ حکومت امریکا کو چاہئے کہ ان اقدامات کے بجائے، کہ جن کا واحد نتیجہ علاقے اور دنیا میں عدم استحکام ہے، صیہونی حکومت کے ترک ایٹمی اسلحہ سمیت مغربی ایشیاء کی سیکورٹی کی ضروریات پوری کرنے، شام اور یمن میں اپنے اتحادیوں کے جرائم کو رکوانے اور داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے حقیقی مقابلے کے اقدامات کرے۔