ایران اور روس کا دفاعی تعاون علاقے کی سیکورٹی میں معاون: ڈاکٹر ولایتی
رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے دفاعی امور اور دہشت گردی کے خلاف جد و جہد میں ایران اور روس کے تعاون کو خطے میں قیام امن کے لئے اہم قرار دیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹرعلی اکبر ولایتی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو میں اتوار کو یوم مسلح افواج کی تقریب میں ایس تھری ہنڈریڈ میزائلی دفاعی سسٹم کی رونمائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ایران کو اس میزائلی دفاعی سسٹم مل جانے سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران اور روس دفاعی تعاون میں سنجیدہ ہیں۔
انھوں کہا کہ شام میں ایران اور روس کا تعاون دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کرنے میں موثر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اقتصادی شعبے اور دوسرے میدانوں میں بھی ایران اور روس کے تعاون میں وسعت آ رہی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے ایرانی عازمین حج کے بارے میں سعودی حکومت کی شرائط کے بارے میں کہا کہ سعودی حکومت کو سبھی عازمین حج کی، ان کی قومیت اور ملک کو مد نظر رکھے بغیر سلامتی کو یقینی بنانا چاہئے۔
ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے تہران میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اور علاقائی نیز بین الاقوامی سطح پر تعاون کی کافی گنجائش پائی جاتی ہے ۔
انھوں نے مستقبل قریب میں ہندوستان کے وزیراعطم کے دورہ تہران کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں مشرقی ایران کے علاقے چابہار سے آذربائیجان اور شمالی روس کے سن پیٹرز برگ تک مجوزہ مواصلاتی شاہراہ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔