ایران کی جانب سے شام میں بیرونی فوجی مداخلت کی مخالفت
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i223096-ایران_کی_جانب_سے_شام_میں_بیرونی_فوجی_مداخلت_کی_مخالفت
اسلامی جمہوریہ ایران نے شام میں بیرونی فوجی مداخلت کے نتائج کی بابت خبردار کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۵, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۷ Asia/Tehran
  • ایران کی جانب سے شام میں بیرونی فوجی مداخلت کی مخالفت

اسلامی جمہوریہ ایران نے شام میں بیرونی فوجی مداخلت کے نتائج کی بابت خبردار کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام میں زمینی فوج بھیجنے کے امریکی اعلان پر کہا ہے کہ اگر امریکہ نے شام میں فوج بھیجی تو حالات بدتر ہو جائیں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے پیر کو اپنی ہفتے وار پریس بریفنگ میں امریکی صدر بارک اوباما کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ واشنگٹن مزید دو سو پچاس فوجی شام روانہ کرے گا، کہا ہے کہ ہم نے بحران شام کے شروع میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ دمشق حکومت سے ہم آہنگی کے بغیر شام میں ہر قسم کی فوجی مداخلت سے نہ صرف یہ کہ بحران کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے بحران اور زیادہ شدید ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ شام میں فوج بھیجنے کے تعلق سے اب بھی یہی اصول اور قاعدہ برقرار ہے یعنی دمشق حکومت سے ہم آہنگی کے بغیر کسی کو بھی شام میں فوج نہیں بھیجنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کے تعلق سے علاقائی اور بین الاقوامی سطح کی ہر کوشش اور اقدام، حکومت شام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے ہی انجام پانا چاہئے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا کہ اس اصول اور قاعدے کے خلاف جو بھی اقدام کیا جائے گا، اس سے بحران شام کی شدت اور پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے پیر کو جرمنی میں اپنی ایک تقریر میں شام میں مزید ڈھائی سو امریکی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے جرمنی کے شہر ہانوور میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ ہم نے شام میں داعش کے خلاف جنگ میں مصروف مقامی افواج کی حمایت کے لئے اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوباما نے کہا کہ انھوں نے شام میں امریکی فوج کے اسپیشل یونٹ کے ڈھائی سو افراد کو شام روانہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے اتوار کو بی بی سی سے انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ، شام میں زمینی فوج نہیں بھیجے گا کیونکہ فوج بھیجنے سے شام کے بحران کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

انھوں نے بی بی سی سے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر امریکہ یا برطانیہ بشار اسد کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپنی فوج شام میں بھیجیں تو یہ غلط ہو گا۔