شام میں دہشت گردوں کے خلاف مہم پر ایران اور روس کی تاکید
ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ نے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ شام میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف مہم بدستور جاری رہے گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ حسین امیرعبداللہیان اورمیخائل بوگدانف نے ماسکو میں اپنے مذاکرات کے اختتام پر ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک، شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے اور شام مخالف دہشت گرد گروہوں کے خلاف مہم جاری رکھے جانے کو ضروری سمجھتے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں روس کے نائب وزیر خارجہ کے ساتھ علاقے کے مختلف ملکوں منجملہ شام، یمن، عراق اور فلسطین کے بارے میں مذاکرات کو مفید اور تعمیری قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ شام میں دہشت گرد گروہوں کے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑ کر فائر بندی کا دائرہ وسیع کیا جائے۔
انھوں نے شام میں دہشت گرد گروہوں کو دیگر گروہوں سے جدا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہوں کو چاہئے کہ ہتھیار ڈال دیں اور مسائل کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کے عمل میں شامل ہو جائیں، اس درمیان تہران اور ماسکو، شامی فریقوں کے درمیان جنیوا امن مذاکرات کو نتیجہ بخش بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روس کے نائب وزیر خارجہ نے بھی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تہران اور ماسکو شام کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس چوّن اور بائیس اڑسٹھ کی تمام شقوں پرعمل درآمد کے خواہاں ہیں۔ بوگدانف نے کہا کہ شام کے سیکورٹی مسائل کے بارے میں ایران اور روس کے مواقف مکمل منطقی ہیں اور دونوں ممالک کا اس بات پر زور ہے کہ عالمی برادری داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔