اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب کا بیان
اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھے ذیلی کمیٹیوں میں سے ایک کمیٹی کی سربراہی کے لئے صیہونی حکومت کے انتخاب کو قانونی امور کی کمیٹی کی حیثیت اور ساکھ کے لئے بہت بڑا دھچکا قرار دیا ہے-
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور قانون شکنی کی سب سے بڑی مصداق ہے-
انہوں نے صیہونی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے اصول اور منشور کی متعدد بار کی گئی خلاف ورزیوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسملبی کی قانونی امور کی کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے اسرائیل کا انتخاب ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب یہ غاصب حکومت عالمی برادری کی درخواستوں کی ہمیشہ مخالفت کرتی ہے -
ایران کے مستقل مندوب نے کہا کہ اس عہدے کے لئے صیہونی حکومت کے انتخاب نے اقوام متحدہ کے منشور اور اصولوں اور ان امنگوں کا جن کے لئے یہ ادارہ قائم کیا گیا تھا مذاق اڑایا ہے-
اقوام متحدہ کے اس عہدے کے لئے ہونے والی ووٹنگ میں دنیا کے اسّی ملکوں نے صیہونی حکومت کے خلاف ووٹ دیا تھا- ووٹنگ کے دوران اوآئی سی ، عرب لیگ ، شام اور اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت کے خلاف تقریر کی-