ایران میں سعودی عرب سے متعلق خطرناک دہشت گرد کی ہلاکت
ایران میں تخریب کاری کی نیت سے داخل ہونے والا خطرناک دہشت گرد ہلاک کر دیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے انٹیلیجنس محکمے کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب سے وابستہ ایک دہشت گرد گروہ کا سرغنہ "ابوحفص بلوشی" ہلاک ہو گیا۔ ایسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے خفیہ ادارے کے سربراہ "محمودعلوی" نے جمعرات کے روز صوبہ قم میں ایک اجلاس سے خطاب کے دوران بتایا کہ ایران کے خفیہ ادارے کے اہلکاروں اور سیکورٹی فورسز نے بروقت کاروائی کرکے ملک میں تخریبی کاروائی کے ایک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کاروائی میں دہشت گرد گروہ کا سرغنہ "ابوحفص بلوشی" سے معروف ہشام عزیزی ہلاک کر دیا گیا۔ محمود علوی نے ایران کی سرحدوں کے اندر پیش آنے والے بعض واقعات میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ غیرملکی ایجنسیوں کی جانب سے تخریب کاری کی ہر کاروائی کے لئے دہشت گرد عناصر کو پانچ لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کی جاتی ہے جبکہ کسی دہشت گرد کے مارے جانے کی صورت میں اس کے ورثا کو دس ہزار ڈالر فراہم کئے جاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خفیہ محکمے"وزارت اطلاعات" کے سربراہ نے امریکا کی بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے، صیہونی حکومت کے خفیہ ادارے "موساد" برطانیہ کی خفیہ جاسوس تنظیم " ایم آئی سکس" اور سعودی عرب کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو ایران کی سلامتی کو دربرہم کئے جانے کی سازش میں ملوث قرار دیا اور کہا کہ ایران کے جنوب مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں تکفیری عناصر کی موجودگی، اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔