صیہونی حکومت پر ایٹمی ترک اسلحہ کے لئے دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
اسلامی جمہوریہ ایران نے صیہونی حکومت پر ایٹمی ترک اسلحہ کے لئے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرارداد چھے سو ستاسی پرعمل درآمد کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے
ایران کی وزارت خارجہ میں مشرق وسطی اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سربراہ علی رضا میریوسفی نے بدھ کو اردن میں سیکورٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت پر ترک اسلحہ کے لئے دباؤ ڈالنا چاہئے -
علی رضا یوسفی نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غیرمعینہ مدت تک این پی ٹی کی مدت میں توسیع سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انیس سو پنچانوے کی قرارداد چھے سو ستاسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کی تعمیرکو بھی اس قرارداد کا جز بتایا-
انھوں نے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے لئے دوہزار دس میں این پی ٹی پر نظرثانی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک اور ناوابستہ تحریک نے اس صورت حال پر با رہا اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور دوہزار پانچ کے اپنے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کرنے کی دھمکی تک دی ہے-
علی رضا میریوسفی نے کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے ایٹمی سمجھوتے اور ایران کے ایٹمی معاملے میں جعلی بحران کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے مناسب حالات میں قرارداد چھے سو ستاسی کے بانیوں اور تمام فریقوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ صیہونی حکومت پر ایٹمی ترک اسلحہ کے لئے دباؤ ڈالیں-