نئی صیہونی بستیوں کی تعمیر کی مذمت
ایران کی وزارت خارجہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے فلسطینی علاقوں میں نئی صیہونی بستیوں کی تعمیر کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی ضابطوں اور قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئی صیہونی بستیوں کے تعمیر سے متعلق بل کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اسرائیل کی توسیع پسندی اور کشیدگی پھیلانے کی پالیسی پر خاموش نہ رہے بلکہ پوری شدت کے ساتھ اس کی مذمت میں آواز بلند کرے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کو خطے کی سلامتی اور استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام، فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے مسلمہ بین الاقوامی اصول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز مطالبات کی تکمیل اور اسرائیل کی توسیع پسندی کو روکنے کی غرض سے ٹھوس اور موثر اقدامات عمل میں لائے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے بھی فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
مشرق وسطی کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نیکولائی ملادی نوف نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ صیہونی بستیوں کی تعمیر عالمی ضابطوں اور قوانین کے منافی ہے۔
ایران، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی جانب سے غیرقانونی صیہونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف تشویش کا اظہار ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک بل کے ذریعے غرب اردن کے فلسطینی علاقے میں نئی صیہونی بستیاں تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آتے ہی، اسرائیلی کے توسیع پسندانہ اقدامات میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے اور ہر روز فلسطینی علاقوں میں نئی صیہونی بستیوں کی تعمیر کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نئے امریکی صدر کو صیہونی حکومت کا اہم ترین حامی قرار دے چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کی ہمہ گیر حمایت جاری رکھنے کے علاوہ امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کا بھی اعلان کیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تئیس دسمبر دو ہزار سولہ کو ایک قرار داد پاس کی تھی جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روکنے پر زور دیا گیا تھا۔