طبی مراکز پر حملوں کی مذمت
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i284188-طبی_مراکز_پر_حملوں_کی_مذمت
ایران کے سفیر نے کہا ہےکہ گزشتہ سال دنیا کے 23 ممالک میں قائم طبی مراکز پر حملے کئے گئے اور ان ممالک میں زیادہ تر مشرق وسطی میں واقع ملکوں میں زیادہ حملے دیکھنے میں آئے ہیں ۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
May ۲۶, ۲۰۱۷ ۰۶:۲۲ Asia/Tehran
  • طبی مراکز پر حملوں کی مذمت

ایران کے سفیر نے کہا ہےکہ گزشتہ سال دنیا کے 23 ممالک میں قائم طبی مراکز پر حملے کئے گئے اور ان ممالک میں زیادہ تر مشرق وسطی میں واقع ملکوں میں زیادہ حملے دیکھنے میں آئے ہیں ۔

اقوام متحدہ میں تعینات ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے سلامتی کونسل میں جنگی تنازعات میں طبی مراکز اور کارکنوں پر حملے کے عنوان سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنگوں کے شکار دنیا کے مختلف علاقوں بالخصوص شام، یمن، افغانستان اور فلسطین میں قائم طبی مراکز پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج دنیا کے مختلف علاقوں بالخصوص شام، یمن، افغانستان اور فلسطین کے طبی اور امدادی مراکز پر بھی حملوں میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ ان حملوں میں ملوث عناصر اپنی اس غلطی کا جواز پیش کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ یہ حملہ انجانے میں ہوگیا ہے۔

انہوں نے آج کے اس دور میں طبی مراکز پر حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کی روک تھام میں نہ صرف پیشرفت سامنے نہیں آئی بلکہ این حملوں میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

انہوں ںے یمن کے نہتے عوام پر گزشتہ دوسالوں سے جاری سعودی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ظالمانہ حملوں کے باعث یمن کے بنیادی ڈھانچوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اور بدقسمتی سے سلامتی کونسل اس صورتحال کو خاموش تماشائی بن کر دیکھ رہی ہے جبکہ امریکہ بھی اس جارحیت کی پشت پناہی کر رہا ہے۔