تہران دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہلاک
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر انٹیلیجنس نے کہا ہے کہ دارالحکومت تہران میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ کو انٹیلی جینس اہلکاروں نے ہلاک کردیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر انٹیلیجنس حجۃ الاسلام والمسلمین سید محمود علوی نے کہا ہے کہ دارالحکومت تہران میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ ابوعایشه کردی کو ایران کے مغربی سرحدی علاقے اور ابو فارس کو جو دہشتگردوں کا ایک اہم سہولت کار اوردہشتگردانہ کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ تھا، شام کے علاقے رقه میں ہلاک کردیا گيا۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ میں ایرانی سیکورٹی فورسز نے متعدد دہشت گرد گروہوں کو گرفتار کیا اور امام زمانہ کے گمنام سپاہیوں کے نام سے موسوم انٹیلی جینس کے خصوصی اہلکاروں نے اس سلسلے متعدد دہشت گردانہ حملوں کو وقت سے پہلے ہی ناکام بنا دیا۔
انہوں نے ایران کی مغربی سرحدوں میں دہشت گردوں کے سرغنہ ابوعائشہ کردی اور شام کے شمالی شہر رقہ میں ایران میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے امور کے سرغنہ ابوفارس کی ہلاکتوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ہم ایرانی عوام کو یہ خوشخبری دینا چاہتے ہیں کہ بدھ کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد دہشت گردوں کے بارے میں کافی سراغ ملے اور ان کی بنیاد بر چالیس سے زائد خطرناک دہشت گردوں کا پتہ لگاکر انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی انٹیلی جینس کی وزارت دنیا کی انتہائی پیشہ ور انٹیلی جینس وزارت ہے خاص طور پر دہشت گردی کےخلاف میں اس کی توانائیاں غیر معمولی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران کی پارلیمنٹ اور حضرت امام خمینی (رہ) کے مزار پر فائرنگ اور خودکش دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ اور سرغنہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا جبکہ دہشت گردانہ حملے سے متعلق مزید سات افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
علوی نے کہا کہ انٹیلی جینس اہلکاروں نے جو 42 یا 43 دہشت گرد گرفتار کئے ہیں ان میں بعض نے تہران میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں معاونت فراہم کی۔ واضح رہے کہ بدھ کو ہونے والے ایرانی پارلیمنٹ اورحضرت امام خمینی (رہ) کے مزار پر حملوں میں 17 افراد شہید اور 52 زخمی ہوگئے تھے۔ ایرانی سکیورٹی فورسز نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے دہشت گردوں کو ایرانی پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں جانے سے روک دیا اور پارلیمنٹ کے اصلی گیٹ کو بند کردیا جس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے اصلی ہدف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوئے تھے۔