خلیج فارس میں ایرانی مسافروں کی جائے شہادت پر پھولوں کا نذرانہ
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i288964-خلیج_فارس_میں_ایرانی_مسافروں_کی_جائے_شہادت_پر_پھولوں_کا_نذرانہ
تین جولائی سنہ انّیس سو اٹھّاسی کو خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے دو میزائلوں کے ذریعے ایران کے مسافر بردار طیارے کو مار گرائے جانے کے نتیجے میں دو سو نوّے افراد کی شہادت واقع ہونے کے مقام پر پیر کے روز ایرانی حکام اور شہدا کے اہل خانہ و لواحقین کی جانب سے پھول نچھاور کئے گئے۔
(last modified 2025-07-01T12:42:33+00:00 )
Jul ۰۳, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۱ Asia/Tehran
  • خلیج فارس میں ایرانی مسافروں کی جائے شہادت پر پھولوں کا نذرانہ

تین جولائی سنہ انّیس سو اٹھّاسی کو خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے دو میزائلوں کے ذریعے ایران کے مسافر بردار طیارے کو مار گرائے جانے کے نتیجے میں دو سو نوّے افراد کی شہادت واقع ہونے کے مقام پر پیر کے روز ایرانی حکام اور شہدا کے اہل خانہ و لواحقین کی جانب سے پھول نچھاور کئے گئے۔

شہادت کے مقام پر پھولوں کا نذرانہ پیش کئے جانے کی تقریب میں غمگین میوزیک اور قومی ترانہ کے ساتھ ساتھ تقریب کے شرکا نے آبنائے ہرمز و ہنگام کے آبی علاقے میں ایرانی مسافروں کی جائے شہادت پر پھول نچھاور کئے۔

پھول نچھاور کئے جانے کی تقریب کے شرکا نے امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے اور امریکہ کے اس جنگی اور غیر انسانی جرم کی شدید مذمت کی اور شہدا کی امنگوں سے تجدید بیعت کیا۔

تین جولائی سنہ انّیس سو اٹھّاسی کو خلیج فارس میں اسلامی جمہوریہ ایران کا مسافر بردار طیارہ امریکی بحری بیڑے وینسنس کی جانب سے دو میزائل حملوں کا نشانہ بنا جس کے نتیجے میں طیارے کے عملے کے ساتھ دو سو نوّے مسافر شہید ہو گئے تھے۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے مسافر بردار طیارے کو مار گرائے جانے کے بعد واشنگٹن نے اپنے ناقابل معافی جرم کی توجیہ پیش کرتے ہوئے متضاد دلائل دیئے اور اس دشمنانہ اقدام کو ایک غلطی سے تعبیر کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ امریکی بحری بیڑا وینسنس جدید تریں ریڈار اور دیگر آلات و کمپیوٹر سسٹم سے لیس تھا اور یہ بات بھی مکمل واضح تھی کہ ایران کا یہ طیارہ، مسافر بردار ہے اس لئے کوئی غلطی کا امکان ہی نہیں رہ جاتا اور اس میں در رائے ہی نہیں کہ امریکہ نے یہ اقدام ایران سے دشمنی کے نتیجے میں انجام دیا ہے۔

ایران کے وزیر دفاع نے مسافر بردار طیارے کو امریکہ کی جانب سے حملے کا نشانہ بنائے جانے کی برسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اس غیر انسانی اقدام نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ واشنگٹن، کسی بھی انسانی اصول کا پابند نہیں ہے۔

جنرل حسین دہقان نے پیر کے روز کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر پابندی کے کنوینشن کے بیس برس پورے ہونے کے موقع پر شمال مغربی ایران میں ایک بیان میں مزید کہا کہ ایران کے دشمن کسی بھی بین الاقوامی قانون و اصول اور معاہدے کی پابندی نہیں کرتے اور آٹھ سالہ مقدس دفاع کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران، پانچ سو تراسی بار بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں سے کئے جانے والے حملوں کا نشانہ بنا۔

ایران کے وزیر دفاع نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران خود قتل و تشدد اور دہشت گردی نیز مہلک ہتھیاروں کا نشانہ بنا ہے، امید ظاہر کی کہ اس قسم کے ہتھیاروں کا استعمال کرنے والوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عالمی یکجہتی کے ساتھ مکمل اور متحدہ عزم پیدا ہو گا۔