May ۲۸, ۲۰۱۸ ۱۸:۱۵ Asia/Tehran
  • جہاز رانی کا تحفظ خطے کے تمام ملکوں کی ذمہ داری ہے، ایڈمرل خانزادی

بحریہ کے سربراہ نے سحر کے دورے کے موقع پر ایک نشست میں، ایرانی بحریہ کی خودکفالت، ترقی اور پیشرفت کی وضاحت کی اور تہران میں منعقدہ آئی او این ایس کے اجلاس کی اہمیت پر زور دیا۔

ایرانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل خانزادی نے بتایاکہ بحریہ میں جو پرانے جنگی بحری جہاز تھے انہیں اپ گریڈ کرکے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کردیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اپ گریڈ کئے جانے والے جنگی بحری جہازوں کی کارگردگی اور معیار کئی گنا بڑھ گیا ہے
ایڈمرل خانزادی نے دنیا کے مختلف ملکوں کے ساحلوں کی طرف ایرانی بحری بیڑوں کی امن مشن پر روانگی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بحریہ کا دو کردار ہوتا ہے ۔ ایک کردار امن کے زمانے کا ہوتا ہے ۔ اور دوسرا جنگ کے زمانے کا ہوتا ہے۔

بحریہ کے سربراہ نے کہا کہ ہم جنگ پر یقین نہیں رکھتے کیوں کہ جنگوں میں ہارنے والے کے ساتھ ہی جیتنے والا بھی در اصل شکست سے ہی دوچار ہوتا ہے اس لئے ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جنگ نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے مرکز میں واقع ہوا ہے۔ انھوں نے ایرانی بحریہ کےتمام دفاعی اورجنگی وسائل اور جنگی جہازوں کو بحری جنگ کے پیشرفتہ ترین وسائل میں شمار کیا۔

ایڈمرل خانزادی نے کہا کہ ایرانی بحریہ نے سخت ترین اور ظالمانہ ترین پابندیوں کے باوجود خودکفالت حاصل کی ہے اور اپنی ضرورت کے تمام وسائل اور پیشرفتہ جنگی بحری جہاز اور جنگی کشتیاں خود تیار کرتا ہے۔
بعدازاں سحر ٹیلی ویژن کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے انڈین اوشن نیول فورس سیمپوزیم کے قیام اور اس کے مقاصد کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ آئی او این ایس کا قیام دوہزار آٹھ میں بحری جہاز رانی کو تحفظ دیئے کی غرض سے انجام پایا ہے اور سن دوہزار اٹھارہ سے ایران کو اس تنظیم کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔
انہوں نے تہران میں ہونے والے انڈین اوشین نیول کمانڈروں کی کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تہران اجلاس خطے کے نیول کمانڈروں کا سب سے بڑا اجلاس تھا جس میں دنیا کے پانچ براعظموں کے چھتیس ممالک کے نیول کمانڈروں اور اعلی وفود نے شرکت کی۔ سب کے سب نے علاقے کی اجتماعی سیکورٹی کے تحفظ پر اتفاق کیا۔
ایڈمرل خانزادی کا کہنا تھا کہ بحر ہند کے وسیع و عریض خطے کی سلامتی کوئی ملک تنہا فراہم نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے خطے کے تمام ملکوں کے مل کر کام کرنا ہوگا اور آزاد سمندری راستوں کے تحفظ کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کو بیدار کرنا تہران میں آئی او این ایس کے اجلاس کا اہم ترین نتیجہ تھا۔