ایران کی دفاعی صنعتوں میں مزید ترقی
ایران کی دفاعی صنعتوں میں ترقی و پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف طرح کے دفاعی آلات اور وسائل بہت جلد مسلح افواج کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔
ایران کی بری فوج کے ایئر ونگ، آرمی ایوی ایشن یا ھوانیروز نے دو سو چھے ہیلی کاپٹروں کا ترقی یافتہ فلائٹ سیمولیٹر سسٹم تیار کرلیا ہے جسے فضائیہ کے جوانوں کی تربیت کے لئے استعمال کیا جاسکے گا۔ سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کا جدید ترین سیمی لیٹر سسٹم ہے۔بری فوج کے کمانڈ بریگیڈیئر جنرل کیومرث حیدری نے مذکورہ سسٹم کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سسٹم فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایئرونگز کی مشترکہ کوششوں اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح آمادہ ہیں۔دوسری جانب اندرونی وسائل کے ذریعے جدید فضائی دفاعی نظام کی تیاری کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس کی رونمائی آئندہ کچھ مہینوں میں متوقع ہے۔ ایران کے نائب وزیر دفاع برائے بین الاقوامی امور بریگیڈیئر جنرل محمد احدی نے بھی تبریز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ منصوبے کو باور تین سو تہتر کا نام دیا گیا ہے جس کی ڈیزائننگ پر عمل درآمد جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی اور اقتصادی طاقت قومی سلامتی کے دو رکن ہیں جبکہ آج دشمن وطن عزیز ایران کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت سے خوفزدہ ہیں۔نائب وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج اغیار پر انحصار کئے بغیر اپنے ماہرین اور سائنسدانوں کی بدولت دفاعی صنعت میں خود کفیل ہوگیا ہے۔اسی دوران ایرانی بحریہ کے کمانڈ ایڈمرل حسین خانزادی نے بتایا ہے کہ بحریہ کے ڈسٹرائر کو کمند نامی جدید ترین دفاعی سسٹم سے لیس کردیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہر جنگی جہاز کو جنگ میں کامیابی کے لیے دو طرح کے سامان حرب کی ضرورت ہوتی ہے جن میں دشمن کو نشانہ بنانے والے ہتھیار اور دشمن کے حملوں کو ناکام بنانے والے آلات شامل ہوتے ہیں۔ایڈمرل خانزادی نے الیکٹرانک جنگ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک جنگ کے آلات کے ذریعے دشمن کی جنگی مشینوں کو جام کیا جاسکتا ہے۔اسمارٹ فلائنگ آبجیکٹس جیسے کروز میزائل وغیرہ کا نشانہ خطا کیا جانا، یا انہیں مخصوص توپوں کی مدد سے نشانہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کروز میزائلوں کو دو کلومیٹر کی حدود میں پہنچنے کے بعد تباہ کرنے کے لیے کمند جیسے دفاعی نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دفاعی نظام کمند کا فیلڈ ٹیسٹ بھی مکمل کرلیا گیا ہے اور یہ سسٹم دو کلومیٹر کی حدود میں آنے والے کسی بھی حملہ آور آبجیکٹ کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایڈمرل خانزادی نےکہا کہ کمند سسٹم آزمائشی طور پر بحریہ کے ایک ڈسٹرائر پر نصب کردیا گیا ہے اور عنقریب دیگر بحری جہازوں میں بھی یہ سسٹم نصب کردیا جائے گا۔