ایران شامی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا، ترجمان وزارت خارجہ
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران شامی حکومت کے حامی کی حثیت سے اس ملک میں موجود ہے اور جب تک دمشق حکومت چاہے گی فوجی مشاروت فراہم کرتا رہے گا۔
پیر کے روز دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ بحران شام کے سیاسی حل کے بارے میں ایران کا موقف پوری طرح سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بحران شام کے حل کے بارے میں صلاح و مشورے کی غرض سے گزشتہ ہفتے ترکی کا دورہ کیا تھا اور آج وہ شام کے دورے پر دمشق گئے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ شام کے بارے میں ایران، روس اور ترکی کا سہ فریقی سربراہی اجلاس سات ستمبر کو ایران میں ہوگا اور ہمیں امید ہے کہ یہ اجلاس بحران شام کے حل میں مدد گار ثابت ہوگا۔بہرام قاسمی نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشت گردوں کے آخری گڑھ کے طور پر ادلب کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور شامی حکومت نے اس علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ادلب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شامی فوج کے حملوں نے دہشت گردوں کے حامیوں کی نیندیں حرام کردی ہیں اور وہ اس کے خلاف منفی شور شرابے پر اتر آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا کو یہ بات مدنظر رکھنا چاہیے کہ ایک خود مختار اور آزاد حکومت کی حیثیت سے دہشت گردی کے مقابلے میں ملک کا دفاع کرنا شامی حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے۔بہرام قاسمی نے عراق کی سیاسی صورتحال اور نئی حکومت کے قیام کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ ایران اس معاملے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے حکومت کی تشکیل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ عراقی عوام جسے بھی نئی حکومت میں لائیں گے ایران اس کا احترام کرے گا اور ایک پڑوسی ملک کے طور پر عراق کے ساتھ ہمارے دوستانہ اور بردارانہ تعلقات کا سلسلہ فروغ پاتا رہے گا۔بہرام قاسمی نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے بارے میں جاری مذاکرات اور یورپ کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کے بارے میں کہا کہ سرمایہ کاری، مالیاتی اور بینکاری معاملات کے بارے میں ایران اور یورپ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم جوتجاویز اب تک سامنے آئی ہیں وہ ایران کی توقعات پر پوری نہیں اترتیں۔ایران کی وزارت خآرجہ کے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ یورپ باقی ماند وقت کے اندر اندر آزمائش کی اس گھڑی میں، ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کے مفادات کی تکمیل کی قابل قبول اور عملی ضماتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہوگا۔