تین یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ایرانی وزیرخارجہ کی ٹیلی فونی گفتگو
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور جرمنی ، سوئیڈن اور ڈنمارک کے وزرائے خارجہ سے ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی جرمن وزیرخارجہ ہیکو ماس، سوئیڈن کی وزیرخارجہ ماگیٹ والسٹرم اور ڈنمارک کے وزیرخارجہ ہینٹر ساموئلسن سے ٹیلی فونی گفتگو میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے تعلق سے امریکی اقدامات اور یورپ کے ذریعے ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ اور اسی طرح جرمنی، سوئیڈن اور ڈنمارک کے وزرائےخارجہ نے بھی ایران کے وزیرخارجہ سے اس ٹیلی فونی گفتگو میں ایٹمی معاہدے کی حفاظت کے سلسلے میں اپنے وعدوں قائم رہنے اور ایران کے ساتھ مالیاتی چینل کے تحفظ اور ایران کے تیل و گیس کی برآمدات کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششوں پر تاکید کرتے ہوئے یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کی جانی والی کوششوں کا ذکرکیا اور کہا کہ یورپی ممالک یورپ سے مخصوص ایک نیا مالیاتی نظام قائم کررہے ہیں۔
اس درمیان برطانیہ جرمنی اور فرانس کے وزرائے خزانہ نے یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ارنا کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاملات کو آگے بڑھانے کے لئے یورپ سے مخصوص ایک نیا مالیاتی سسٹم تیار کی جارہا ہے۔ ان تین یورپی ملکوں اور یورپی یونین کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ اس پیکج کو تیار کررہا ہے جو تہران کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرے گا۔
اس مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران یورپی یونین کی کوششیں خاص طور پر ایس وی پی نامی خصوصی مالیاتی سسٹم کے قیام میں یورپی یونین کی کوشش سے یورپی تاجروں کے لئے قانونی تجارت کے راستے کو ممکن بنارہی ہے۔ یورپی ملکوں اور یورپی یونین کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین ایٹمی معاہدے کے ایک فریق کی حیثیت سے تہران کے ساتھ مالیاتی سسٹم کو باقی رکھنے کی پابند ہے اور وہ ایران کے تیل اور گیس کی برآمدات کو یقینی بنائے گی۔
یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے دیگر فریقوں کی حیثیت سے روس اور چین کے ساتھ بھی تعاون کررہی ہے اور ان ملکوں کے ساتھ بھی تعاون کرنے کو تیار ہے جو ایران کے ساتھ تجارت کے خواہشمند ہیں۔ یورپی یونین نے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں کا نیا مرحلہ پانچ نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔