ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنا یورپی ملکوں کی ذمہ داری ہے، ایران
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i339071-ایٹمی_معاہدے_کو_باقی_رکھنا_یورپی_ملکوں_کی_ذمہ_داری_ہے_ایران
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے سرے سے ایٹمی مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۳, ۲۰۱۸ ۱۰:۱۷ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنا یورپی ملکوں کی ذمہ داری ہے، ایران

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے سرے سے ایٹمی مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔

روم میں جاری میڈیٹرین ڈائیلاگ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے موجودہ ایٹمی معاہدے کا دفاع کیا اور اسے بہترین معاہدہ قرار دیا۔
امریکہ کی جانب سے از سرنو ایٹمی مذاکرات کی کوششوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران ایٹمی پروگرام کے بارے میں امریکہ سے دوبارہ مذاکرات نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ دوبارہ ایٹمی مذاکرات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران اور دنیا کے چھے ملکوں کے درمیان ہونے والے پچھلے ایٹمی مذاکرات میں بارہ سال کا عرصہ لگا ہے اور اس کا نتیجہ ایٹمی معاہدے کی شکل میں سامنے آیا لہذا اب یورپ اور اس معاہدے کے دیگر شرکا کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی سلامتی کے لیے سرمایہ کاری اور اس کے اخراجات برداشت کریں۔
ایران کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور خطے کے بعض ملکوں کی جانب سے صدام، داعش، طالبان اور جبہت النصرہ کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو خطے کے حوالے سے اپنی پالیسیوں اور سوچ پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی تنظیموں میں ایران کے مستقل مندوب کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے قابل قبول ضمانتوں کے حامل عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ بڑی بے شرمی کے ساتھ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور دوسروں کو اس کی خلاف ورزی پر اکسا رہا ہے۔
کاظم غریب آبادی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قانون پر عمل، مضبوط سفارت کاری اور کثیرفریقی نظام کی بھرپور حمایت کے ذریعے امریکہ کے غیر ذمہ دارانہ رویے کا جواب دیا جانا چاہئے۔