خلیج فارس میں امریکہ کی موجودگی باعث کشیدگی، ایران
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکہ کی موجودگی نہ صرف غیر قانونی بلکہ کشیدگی کا بھی باعث بنی رہی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے چین کے فونیکس ٹی وی سے خصوصی گفتکو میں کہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کا نہ صرف یہ کہ کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے بلکہ اس کی یہ موجودگی علاقے میں کشیدگی کا باعث بنی رہی ہے اور امریکہ نے جب بھی خلیج فارس میں اپنے فوجی بڑھانے کا اعلان کیا ہے خلیج فارس کے تمام ملکوں کو خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران ایک طاقتور ملک ہے اور وہ اپنے مفادات کا بخوبی دفاع کرنا جانتا ہے اور علاقے میں امریکی موجودگی سے خلیج فارس کو ہمیشہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ، ایران کے خلاف کوئی خطرہ پیدا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
انھوں نے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں بھی کہا کہ ابھی ہم یہ نہیں جانتے کہ امریکہ نے کس منصوبے کے تحت شام سے نکلنے کا اعلان کیا ہے تاہم جو چیز ہمارے لئے اہم ہے وہ یہ ہے کہ علاقے میں امریکہ کی پالیسی خطرناک ہے اور اس پالیسی مں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ تہران، واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اس لئے کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے کہا کہ آٹھ ماہ قبل امریکہ ایٹمی معاہدے میں شامل تھا اور وہ ایران سے مذاکرات بھی کر رہا تھا مگر وہ خود ہی ایٹمی معاہدے اور مذاکرات کے عمل سے باہر ہوا اس لئے اسے ہی مذاکرات کے لئے واپس لوٹنا ہو گا۔
محمد جواد ظریف نے کہا کہ چین، ایران کا ایک قابل اعتماد دوست ملک ہے اور ہم بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ چین بھی ایران پر مکمل اعتماد کرے۔