Dec ۰۳, ۲۰۱۹ ۱۴:۱۳ Asia/Tehran
  • اجتماعی سلامتی ، ایران عمان مذاکرات کا محور

ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ نے تہران میں ایک دوسرے سےملاقات اور اہم علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ پچھلے نو ماہ کے دوران عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی کا یہ تیسرا دورہ ایران ہے۔

تجربے سے اس بات کی نشاندھی ہوتی ہے کہ خطے کے مسائل کا حل اندرونی ہے اور بیرونی طاقتیں اس خطے کے لیے امن و سلامتی ہرگز نہیں لاسکتیں۔ امریکہ سن دوہزار سے اس علاقے میں موجود ہے لیکن وہ اس علاقے میں امن و سلامتی قائم نہیں کرسکا ہے۔ عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی سے ملاقات میں ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے بھی اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ علی شمخانی نے خطے کی سلامتی کے نام پر بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی ناکام امریکی کوشش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنگوں اور دہشت گردی کو فروغ دے کرخطے کو بدامنی اور نابودی کے دھانے پر پہنچانے والے ممالک صرف اپنے مفادات کے حصول اور علاقے کی دولت و ثروت لوٹنے کی فکر میں ہیں۔ علی شمخانی نے کہا کہ یمن میں جاری جنگ تسلط پسند طاقتوں اور ان کے علاقائی آلہ کاروں کی جنگ پسندانہ سوچ کی غماز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کی نسل کشی کا جاری رہنا صرف اور صرف امریکہ و اسرائیل جیسے خطے کے سلامتی اور استحکام کے دشمنوں کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام کو چاہیے کہ وہ یمنی عوام کی تحریک مزاحمت کو تسلیم کرلیں اور خطے کی سلامتی و استحکام کو مزید خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔ دوسری جانب امریکی جریدے بلوم برگ نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کی حمایت سے دلبراشتہ ہونے والے بعض عرب ممالک اب ایران کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی تگ دو میں مصروف ہیں۔یوسف بن علوی نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں مسقط اور عمان کے نظریات میں انتہائی قربت پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کبھی خطے کے لیے خطرات پیدا کرنے یا اپنی بالا دستی کا خواہاں نہیں رہا۔ اس تناظر میں عمان کے وزیر خارجہ کے تہران میں مذاکرات کو علاقائی سطح پر سفارتی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔