سعودی طیاروں کےحملے میں درجنوں یمنی شہری شہید
یمن میں سعودی اتحاد کے حملوں میں کم سے کم تینتالیس افراد شہید ہوگئے ہیں۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد میں شامل کرائے کے فوجیوں نے تعز شہر میں پیشقدمی کی کوشش کی تاہم انہیں یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی اتحاد کے کرائے کے فوجیوں کی شکست سے بوکھلا کر سعودی حکومت کے جنگی طیاروں نے رہائشی علاقوں پر حملے شروع کر دیئے جس کے نتیجے میں کم سے کم تینتالیس افراد شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں کچھ یمنی فوجی اور عوامی رضاکار بھی شامل ہیں۔
اسپتال کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والے زیادہ تر افراد سعودی بمباری میں مارے گئے ہیں۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوابی حملوں میں سعودی اتحاد کے چودہ کرائے کے فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب یمن میں فوج اور عوامی رضاکار دستوں نے صوبے مآرب میں جبل رشا سمیت کئی اہم اور اسٹریٹیجک علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔
ادھر شمالی یمن میں واقع صوبے الجوف کے شہر الحزم میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں پر یمنی فوج کی گولہ باری میں درجنوں کرائے کے فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
یمنی فوج نے جمعے کے روز بھی مآرب، الجوف اور تعز صوبوں میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں کو اپنے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔
واضح رہے کہ سعودی حکومت نے نو عرب ملکوں کا اتحاد تشکیل دے کر امریکہ کی مکمل حمایت سے گذشتہ سال مارچ سے یمن پر اپنے وحشیانہ حملوں کا آغاز کیا ہے جن میں اب تک ہزاروں یمنی عام شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی اسّی فیصد سے زائد بنیادی تنصیبات بھی تباہ ہو گئی ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمن کے خلاف مسلط کردہ سعودی جنگ و جارحیت کے نتیجے میں دسیوں ہزار یمنی شہری بےگھر بھی ہوئے ہیں۔