کم سن ہندوستانی ملازمہ سعودی کفیل کے تشدد سے ہلاک
سعودی کفیل کے ہاتھوں کم عمر ہندوستانی ملازمہ کی ہلاکت کے واقعے نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ سعودی عرب میں غیر ملکی مزدوروں کی افسوسناک صورتحال کی جانب مبذول کردی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق سعودی خاندان کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی کم عمر ہندوستانی ملازمہ جمعرات کو علاج کے دوران اسپتال میں دم توڑ گئی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی کی موت سے تین روز قبل ہی اس کے گھروالوں نے ریاست تلنگانہ کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ ان کی بیٹی کو سعودی کفیل سے چھڑا کر ہندوستان منتقل کیا جائے۔
اخبار کے مطابق اسما خاتون نامی کم سن ہندوستانی لڑکی دسمبر دوہزار پندرہ میں سعودی خاندان کے یہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر خدمت کے لیے ریاض گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ ہندوستانی حکومت نے خواتین کے لیے گھریلو ملازمہ کے طور پر بیرون ملک ویزے کی فراہمی کو ممنوع قرار دے رکھا ہے لیکن مذکورہ لڑکی تین ماہ کے ورک ویزے پر سعودی عرب گئی تھی جہاں کفیل نے ویزہ ختم ہونے کے بعد بھی اسے وطن واپسی کی اجازت نہیں دی۔
روزنامہ انڈین ایکسپریس کے مطابق اس عرصے میں لڑکی کے گھروالوں کا بھی اس سے کوئی رابطہ نہیں تھا لیکن دو ماہ قبل اس نے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ اسے سعودی کفیل کے بے پناہ تشدد کا سامنا ہے لہذا اسے ہر قیمت پر ہندوستان واپس بلایا جائے ۔