افغانستان کے صوبہ ہلمند مں پچاس سے زائد پولیس اہلکار ہلاک
افغانستان کے حکام نے گذشتہ دو دنوں میں صوبہ ہلمند میں جاری جھڑپوں میں پچاس سے زائد افغان پولیس اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے-
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مقامی پولیس کمانڈر عصمت اللہ دولت زئی نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ جھڑپیں کئی دنوں سے جاری ہیں جس میں اتوار انتیس مئی کو تینتیس اور پیر تیس مئ کو چوبیس پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان جھڑپوں میں چالیس سے زائد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ جھڑپوں میں پولیس اور فوج کی تقریبابائیس چیک پوسٹوں پر طالبان کا قبضہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے شمالی اور مغربی علاقوں میں جاری ہیں۔ افغان فوج کا اس سلسلے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز رات بھر شہر کے قریب گولہ باری اور مشین گنوں کے فائر کی آوازیں سنیں۔ صوبہ ہلمند کے گورنر کے ترجمان عمر زواک کا کہنا ہے کہ علاقے پر دوبارہ قبضے کے لئے افغان حکام کوشش کر رہے ہیں۔