عراق کے مغربی اور شمالی علاقوں سے دہشت گردوں کی پسپائی
عراق کے شمالی اورمغربی علاقوں میں عراقی افواج کی شاندار پیشقدمی اورکامیابیوں کے بعد دہشت گرد عناصر مسلسل ان علاقوں میں پسپائی اختیار کرنے پرمجبور ہورہے ہیں -
عراق کے مغربی شہر فلوجہ کے آپریشنل کمانڈر میجر جنرل عبدالوہاب الساعدی نے ہفتے کوایک بیان میں کہا کہ فلوجہ شہر کے نوے فیصد سے زائد علاقوں کو دہشت گردوں کے وجود سے پاک کردیا گیاہے - ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فلوجہ کے شمال میں الجولان اور المعلمین کے علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائیاں جاری ہیں -
عراق کے مذکورہ فوجی کمانڈر نے کہا کہ فلوجہ کو آزاد کرانے کی کارروائیوں میں گذشتہ ایک مہینے کے دوران سیکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ دہشت گرد گروہ داعش کے پندرہ سو عناصر کو گرفتار کرلیا گیا -
عراق کی فیڈرل پولیس کے سربراہ شاکر جودت نے بھی کہا ہے کہ فلوجہ شہر کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کے دوران آس پاس کے بیاسی گاؤں اور دیہات بھی داعش کے وجود سے پاک کردیئےگئےہیں- ان کا کہنا تھا کہ فلوجہ شہرکےانتہائی شمال میں واقع دو علاقوں کو بھی جلد ہی داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا جائے گا- داعش کے ایک مضبوط گڑھ فلوجہ کو آزاد کرانے کی کارروائیاں گذشتہ تیئس مئی کو عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے حکم سے شروع ہوئی تھیں -
دوسری جانب عراقی فوج نے کہا ہے کہ عوامی رضاکار فورس کی مدد سے شمالی صوبے صلاح الدین میں البوعمیرہ اور العین البیضا کے دو علاقے بھی دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالئےگئے ہیں - صوبہ صلاح الدین میں فوج کی اس کارروائی میں کم سے کم تیس دہشت گردہلاک ہوئے ہیں -
دریں اثنا قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے خبردی ہے کہ عراق میں مختلف محاذوں پر شکست کھانے کے بعد خود داعش کے عناصر کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں اور ان میں آپس میں لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں - قطرکی سرکاری خبررساں ایجنسی نے کہا کہ موصل شہر کے مرکزی علاقے یرموک میں داعش کے عناصر کے درمیان آپسی لڑائی میں داعش کے دسیوں دہشت گرد ہلاک ہوگئے -