دہشت گردوں کی جارحیت پر دمشق کا ردعمل
شام کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حلب کے رہائشی علاقوں میں دہشت گردانہ حملے جاری رہنے کے سبب، دہشت گردی سے مقابلے کے دعویدار ملکوں کے نفاق کا پتہ چلتا ہے-
ارنا کی رپورٹ کے مطابق شام کی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کے نام علیحدہ علیحدہ خط میں کہا ہے کہ ان جارحانہ کاروائیوں کے جاری رہنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ فرانس اور برطانیہ جیسے سلامتی کونسل کے بعض ممبر ممالک دہشت گردی سے مقابلے میں سنجیدہ نہیں ہیں-
ان مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ ، سعودی عرب، ترکی اور قطر جیسے ممالک کی حمایت سے قتل عام اور تباہی و بربادی کی پالسی اپنا کر حلب کے رہائشی علاقوں پر جدید ترین ہتھیاروں سے حملے کر رہے ہیں- شام کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ دہشت گرد گروہوں نے عید فطر پر توجہ کئے بغیر، انواع و اقسام کے راکٹ ، اور بڑے پیمانے پر تباہی مچانے والے ہتھیاروں کے ذریعے، اندھا دھند رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے اور فروری کے مہینے سے اب تک سات سو باسٹھ مرتبہ ان گروہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے-
شام کی وزارت خارجہ نے کہا کہ گذشتہ دنوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے جدید ترین میزائلوں اور ہتھیاروں نیز کلسٹرڈ بموں کا استعمال کیا ہے جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ترکی اور سعودی عرب مغربی ملکوں کی حمایت سے یہ ہتھیار دہشت گردوں کو فراہم کر رہے ہیں- ان مراسلوں میں کہا گیا ہے کہ عید فطر کی تین دن کی چھٹیوں کے دوران شہر حلب کے رہائشی علاقوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں چالیس شہری جاں بحق ہوئے جن میں سترہ بچے ، پندرہ خواتین اور آٹھ مرد شامل ہیں جبکہ ایک سو ستر افراد زخمی ہوئے جن میں چھیالیس بچے ، چھالیس خواتین اور اٹہتر مرد شامل ہیں-