شام میں نظام حکومت کی تبدیلی سے متعلق سعودی عرب کا منصوبہ ناکام
شام میں نظام حکومت کی تبدیلی کے لئے سعودی عرب کا منصوبہ ناکام ہو گیا
حزب اللہ کے ایک سینئیر رہنما "نبیل قاووق" نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں نظام حکومت کی تبدیلی کے جو خواب سعودی عرب دیکھ رہا تھا وہ اب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے نائب سربراہ "شیخ نبیل قاووق" نے کہا کہ دہشت گردوں کی بھرپور مدد و حمایت کے باوجود سعودی عرب، شام میں نظام حکومت تبدیل نہیں کراسکتا۔ انہوں نے کہا کہ شام کی صورت حال اب تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام، تکفیریوں یا سعودی عرب کی جارحیت کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعہ بن گیا ہے۔ "شیخ نبیل قاووق" نے داعش اور جبہتہ النصرہ کو لبنان کی سالمیت کے لئے اسٹرٹیجک اعتبار سے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ شام میں جاری دہشت گردی سے لبنان کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا ہے بنابریں شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، حزب اللہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے اندر اور لبنان کی سرحدوں سے باہر تکفیریوں کے خلاف جنگ کا بنیادی مقصد اپنے ملک اور ہم وطنوں کی حمایت کرنا ہے کہ جسے حزب اللہ اپنا فریضہ سمجھتی ہے۔ اس سے قبل حزب اللہ کی مجلس عاملہ کے سربراہ "سید ہاشم صفی الدین" نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سعودی حکام حزب اللہ سمیت عربوں اور مسلم امہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یمن، شام اور عراق میں بے گناہ عوام کا جو خون بہایا جا رہا ہے اس کی ساری ذمہ داری آل سعود پر عائد ہوتی ہے۔