یمن: مذاکرات کے لئے انصاراللہ کی شرط
-
محمد عبدالسلام: جاری جارحیت کی صورت میں کسی بھی طرح کے صلاح و مشورے کا عمل شروع کرنے کا مطلب، وقت ضائع کرنا ہو گا۔
یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ نے اعلان کیا ہے کہ مکمل جنگ بندی اور یمنی عوام کا محاصرہ ختم کئے جانے کی صورت میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی مذاکرات شروع کئے جا سکتے ہیں۔
انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے یمن میں جنگ بندی کے لئے لندن و واشنگٹن کی درخواست پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں مذاکرات شروع کئے جانے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مکمل طور پر جنگ بند اور یمنی عوام کا محاصرہ ختم کیا جائے۔ انھوں نے ٹوئٹ کیا ہے کہ مکمل جنگ بندی کا مطلب یہ ہے، زمینی، بحری اور ہوائی حملے بند اور یمن کی فضا میں پرواز پر پابندی و محاصرہ بالکل ختم کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ جاری جارحیت کی صورت میں کسی بھی طرح کے صلاح و مشورے کا عمل شروع کرنے کا مطلب، وقت ضائع کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے لندن میں اپنے برطانوی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہ جس میں ولد الشیخ احمد بھی شامل تھے، یمن میں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لندن اجلاس میں، جس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی شریک تھے، یمنی قوم کے خلاف سعودی عرب کا ظالمانہ محاصرہ ختم کئے جانے کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا گیا۔