ترک فوجی ایک بار پھر شام کی سرزمین میں داخل
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i259078-ترک_فوجی_ایک_بار_پھر_شام_کی_سرزمین_میں_داخل
بعض خبری ذرائع نے ترک فوجیوں کے شام کے شہر حسکہ کے شمالی مضافات میں داخل ہونے کی خبر دی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Nov ۲۲, ۲۰۱۶ ۰۹:۰۳ Asia/Tehran
  • ترکی کے غیر قانونی اور مداخلت پسندانہ رویے کے پیش نظر، شام کی حکومت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں شکایت کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔
    ترکی کے غیر قانونی اور مداخلت پسندانہ رویے کے پیش نظر، شام کی حکومت نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں شکایت کر کے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

بعض خبری ذرائع نے ترک فوجیوں کے شام کے شہر حسکہ کے شمالی مضافات میں داخل ہونے کی خبر دی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئي آر آئي بی کی رپورٹ کے مطابق، ترک فوجی عین دیوار، کردمیه، حجی مطری، مغربی سویده اوردیرک (المالکیه) علاقوں میں داخل ہوگئے اور تاریخی اور قدیم علاقے پل رومانی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

  ترکی کے فوجیوں کا شام کی سرزمین میں داخل ہونا درحقیقت شامی کرد گروہوں کے اس دعوے کو ثابت کرتا ہے کہ ترکی داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس دہشت گرد گروہ کو شکست سے بچانے کے لیے شام میں داخل ہوا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ترکی کے فوجیوں کے، مسلسل شام میں داخل ہونے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی کے حکام کو شام کے زمینی حالات اور سیاسی تبدیلیوں پر اثرانداز ہونے سے زیادہ داعش کے خلاف اتحاد میں شامل ملکوں کے قافلے سے پیچھے رہ جانے کے بارے میں تشویش ہے۔

ترکی کی جانب سے ایسی حالت میں اپنے پڑوسی ملک کی ارضی سالمیت کی خلاف روزی کی جا رہی ہے کہ شام کی حکومت نے اپنے ملک میں ترک فوجیوں کی مداخلت اور ان کی موجودگی کے بارے میں کسی بھی سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے ہیں اور شامی حکام نے اس سلسلے میں ترکی کی حکومت سے کوئی درخواست بھی نہیں کی ہے۔