عراق، بحران شام کے حل میں ثالثی کے لیے تیار
https://urdu.sahartv.ir/news/islamic_world-i264583-عراق_بحران_شام_کے_حل_میں_ثالثی_کے_لیے_تیار
عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحران شام کے حل میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۲۸, ۲۰۱۶ ۱۵:۲۹ Asia/Tehran
  • عراق، بحران شام کے حل میں ثالثی کے لیے تیار

عراق کے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے کہا ہے کہ ان کا ملک بحران شام کے حل میں ثالثی کے لیے تیار ہے۔

روسی میڈیا اسپوتنک نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نےکہا کہ  شام اورعراق دونوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور ہمسایہ ملک ہونے وجہ سے دونوں کا عدم استحکام ایک دوسرے کو متاثر کرتا ہے۔ ابراہیم الجعفری نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ان کا ملک عرب لیگ میں خاص پوزیشن رکھتا ہے اور بحران شام کے حل کے لیے ، ایران، روس اور ترکی پر مشتمل سہ فریقی گروپ میں شمولیت کے لیے تیار ہے۔

عراق کے وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض ممالک دہشت گرد گروہ داعش کی حمایت پر بھاری رقم خرچ کر رہے ہیں اور اسے ہر طرح کا تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شمالی عراق کے صوبے نینوا کے بڑے علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا گیا ہے جبکہ موصل کے چھپن میں سے چالیس محلے اس وقت عراق کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہیں۔

عراق کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اپنے ملک سے ترک فوجیوں کے انخلا پر زور دیتے ہوئےکہا کہ عراقی حکومت اپنی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گی۔ انہوں نے کہا کہ بغدا حکومت ترک فوجیوں کو باہر نکالنے کے لیے عالمی اور قانونی ذریعوں سے معاملے کو آگے بڑھا رہی ہے۔