عراقی فوج کی پیشقدمی جاری، حاوی الکنیس علاقے میں داخل
عراقی فورس، مغربی موصل کے دو تہائی علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر نے کے بعد اب اس شہر کے حاوی الکنیس علاقے میں داخل ہو گئی ہے۔
عراق کی مشترکہ آپریشنل کمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اس ملک کی مسلح افواج حاوی الکنیس علاقے میں داخل ہو گئی ہیں اور شہر موصل کے قدیمی علاقے کو اپنے محاصرے میں لینے کے بعد اس علاقے پر حملے کی ہدایات کا انتظار کر رہی ہیں-
عراق کی مشترکہ آپریشنل کمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان فوجیوں نے موصل کے ہفدھم جون علاقے میں دہشت گردوں کے اڈوں کو جو داعش کا سب سے بڑا ٹھکانہ ہے، گائیڈڈ میزائل سے حملے کا نشانہ بنایا اور الزنجیلی، الرفاعی اور حاوی الکنیس محلوں میں داعش کے مورچوں پر بمباری کی-
درایں اثنا عراق کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ نے سنیچر کی شام، کلورین گیس کے مارٹر بموں سے الآبار علاقے کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا-
اس علاقے کو ابھی حال ہی میں داعش کے قبضے سے آزاد کرایا گیا تھا- اس عراقی افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سات فوجیوں کو، جو اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے، سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے اور ان کا الآبار علاقے کے قریب ایک میڈیکل سینٹر میں علاج کیا جا رہا ہے-
عراقی فوجیوں نے گذشتہ دنوں مغربی موصل کے محور میں دہشت گردوں کا دو بہ دو مقابلہ کیا- دہشت گرد مسجدوں، گھروں اور اسپتالوں میں روپوش ہو جاتے ہیں-
مغربی موصل کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی انیس فروری دو ہزار سترہ کو شروع ہوئی ہے-